• News
  • »
  • قومی
  • »
  • تینتیس سال بعد محمد نعیم بری، عدالت نے ثبوتوں کی کمی پر اٹھائے سنگین سوالات

تینتیس سال بعد محمد نعیم بری، عدالت نے ثبوتوں کی کمی پر اٹھائے سنگین سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 03, 2026 IST

تینتیس سال بعد محمد نعیم بری، عدالت نے ثبوتوں کی کمی پر اٹھائے سنگین سوالات
تقریبا تینتیس سال تک ایک شخص بغاوت، مذہبی منافرت پھیلانے اور قومی یکجہتی کے خلاف سرگرمیوں جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرتا رہا۔ برسوں تک مقدمہ چلتا رہا، لیکن آخرکار عدالت نے قرار دیا کہ محض الزامات کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتے۔ لکھنؤ کی خصوصی این آئی اے عدالت نے 78 سالہ محمد نعیم کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ اپنے دعووں کو قابل اعتماد شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ یہ فیصلہ صرف ایک شخص کی بریت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے تفتیشی عمل، پولیس کی کارروائی اور برسوں سے مقدمات کا سامنا کرنے والے ان افراد کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے، جو طویل عرصے سے عدالتی فیصلوں کے منتظر ہیں۔
 
1993 میں درج ہوا تھا مقدمہ
 
محمد نعیم کے خلاف مقدمہ 26 جنوری 1993 کو گورکھپور کے کوتوالی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس وقت الزام لگایا گیا کہ کچھ افراد نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر سیاہ پرچم لہرائے، پاکستان کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے لگائے اور فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے محمد نعیم، محمد یوسف، عطاء اللہ اور دیگر افراد کو اس مقدمے میں نامزد کیا تھا۔
 
عدالت نے کن الزامات سے بری کیا؟
 
31 جولائی 2026 کو خصوصی این آئی اے عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اماکانت جندال نے محمد نعیم کو بھارتی تعزیرات کی دفعات 124A (بغاوت)، 295A (مذہبی جذبات مجروح کرنا) اور 153B (قومی ہم آہنگی کے خلاف بیانات) سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں محمد نعیم کو اپنی زندگی کے 33 برس عدالتی کارروائی میں گزارنے پڑے۔
 
استغاثہ کے مقدمے میں خامیاں
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ مبینہ طور پر برآمد کیے گئے سیاہ جھنڈے کبھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی ان کی برآمدگی کا قانونی ریکارڈ (ضبطی میمو) پیش کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اس سے استغاثہ کے پورے مقدمے پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ایک اہم پولیس گواہ نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ پولیس کے موقع پر پہنچنے تک مبینہ نعرے لگانے والے افراد وہاں سے جا چکے تھے۔ مزید یہ کہ شکایت کنندہ اور اس وقت کے تھانہ انچارج کو بھی عدالت میں جرح کے لیے پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث ان کے بیانات کی جانچ ممکن نہ ہو سکی۔
 
تفتیشی افسر نے جائے وقوعہ بھی نہیں دیکھا
 
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دوسرے تفتیشی افسر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے کبھی جائے وقوعہ کا معائنہ نہیں کیا، کسی نئے گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور پہلے سے موجود مواد کی بنیاد پر ہی چارج شیٹ داخل کر دی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس کے مطابق تمام افراد موقع سے جا چکے تھے تو پھر محمد نعیم اور دیگر ملزمان کی شناخت کس بنیاد پر کی گئی؟ اس حوالے سے کوئی آزاد گواہ یا مضبوط ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
 
33 سال بعد انصاف
 
عدالت کے فیصلے کے بعد محمد نعیم جذباتی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور مسلسل یہ کہتے رہے کہ انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ ان کے بقول، اب مجھے امید ہے کہ لوگ مجھے قوم دشمن کہنا چھوڑ دیں گے۔ آخرکار مجھے انصاف مل گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس اصول کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ فوجداری مقدمات میں کسی بھی شخص کو سزا دینے کے لیے مضبوط، قابل اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد ضروری ہوتے ہیں، اور عدالتیں صرف الزامات کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہیں دے سکتیں۔