• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • سی جے پی کے بڑے اعلان کے بعد جھارکھنڈ میں احتجاج کی تیاریاں، کیا بنے گا نیا جنتر منتر؟

سی جے پی کے بڑے اعلان کے بعد جھارکھنڈ میں احتجاج کی تیاریاں، کیا بنے گا نیا جنتر منتر؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: | Last Updated: Aug 03, 2026 IST

سی جے پی کے بڑے اعلان کے بعد جھارکھنڈ میں احتجاج کی تیاریاں، کیا بنے گا نیا جنتر منتر؟
جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی (JPSC) اور جے ایس ایس سی (JSSC) بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کو ایک اور اہم حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی قبول نہیں کی جا سکتی۔
 
ابھیجیت ڈپکے نے طلبہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ ان کی جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کا پورا عمل شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ ہر امیدوار کو مساوی موقع مل سکے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امتحانات یا تقرری کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا دھاندلی کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ کے نوجوان روزگار کے حصول کے لیے برسوں محنت کرتے ہیں اور ایسے میں اگر امتحانی عمل پر سوالات اٹھیں تو اس سے امیدواروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امیدواروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنیں اور ان کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
 
ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں نوجوانوں کو اپنی آواز بلند کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کے خلاف غیر ضروری سخت کارروائی سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہر فیصلہ مکمل شفافیت کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
 
واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں گزشتہ کئی دنوں سے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مختلف طلبہ تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانات اور بھرتی کے عمل کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور تمام اہل امیدواروں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
 
سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔