Tuesday, August 25, 2026 | 10 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ: کالیشورم پر حکومت کا موقف کٹہرے میں، اٹھے بڑے سوالات

تلنگانہ: کالیشورم پر حکومت کا موقف کٹہرے میں، اٹھے بڑے سوالات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 25, 2026 IST

تلنگانہ: کالیشورم پر حکومت کا موقف کٹہرے میں، اٹھے بڑے سوالات
تلنگانہ میں کالیشورم لفٹ اریگیشن اسکیم کے معاملے پر کانگریس حکومت کو اب اپنے موقف کے حوالے سے کئی اہم سوالات کا سامنا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کے حلف نامے اور سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن کی جانچ کے نتائج کے بعد بحث کا مرکز صرف (میڈی گڈہ) بیراج کو پہنچنے والا نقصان نہیں رہا، بلکہ یہ سوال بھی اہم ہو گیا ہے کہ اگر کالیشورم سے پانی پمپ کرنا ریاستی حکومت کے اختیار اور آپریشنل فیصلے کے دائرے میں آتا ہے تو حکومت نے اس حوالے سے کیا فیصلہ کیا ہے؟
 
این ڈی ایس اے نے عدالت میں اپنے حلف نامے میں واضح کیا کہ کالیشورم کے ذریعے پانی پمپ کرنے سے متعلق فیصلے اس کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہیں اور یہ اختیار ریاستی حکومت کے پاس ہے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کیونکہ کانگریس حکومت ماضی میں منصوبے کو دوبارہ چلانے کے معاملے میں حفاظتی خدشات اور ماہرین کی سفارشات کا حوالہ دیتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی بھی کہہ چکے ہیں کہ منصوبے کی بحالی این ڈی ایس اے اور متعلقہ تکنیکی کمیٹیوں کی سفارشات کے مطابق کی جائے گی۔
 
دوسری جانب، سی ڈبلیو پی آر ایس کی جانب سے بیراجوں کی جانچ کے بعد سامنے آنے والی معلومات نے حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انارم اور سندیلا بیراجوں میں کنکریٹ کے معیار سے متعلق کوئی بڑا نقص سامنے نہیں آیا، جبکہ میڈی گڈا میں بنیادی ساختی خدشات مبینہ طور پر متاثرہ بلاک نمبر 7 تک محدود پائے گئے۔
 
ایسے میں حکومت کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پورے کالیشورم نظام کو مکمل طور پر بحال ہونے تک بند رکھا جائے گا یا ان حصوں کو مرحلہ وار چلانے پر غور کیا جائے گا جو تکنیکی طور پر استعمال کے قابل ہیں؟
 
حکومت کی جانب سے اس بارے میں واضح پالیسی سامنے نہ آنے سے کسانوں کی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔ کالیشورم منصوبے پر انحصار کرنے والے کسانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آبپاشی کے لیے پانی کب دستیاب ہوگا اور پمپنگ کب دوبارہ شروع کی جائے گی۔
 
خاص طور پر ایسے وقت میں جب دریاؤں میں پانی کی آمد کے دوران بڑی مقدار میں پانی نچلی جانب چھوڑا گیا، منصوبے کو دوبارہ چلانے کے امکانات پر سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔ اب اصل امتحان کانگریس حکومت کا ہے کہ وہ نئی تکنیکی معلومات کی روشنی میں اپنی پالیسی واضح کرتی ہے یا نہیں۔ کالیشورم اب صرف سابقہ حکومت کی مبینہ خامیوں کی تحقیقات کا معاملہ نہیں، بلکہ موجودہ حکومت کے فیصلوں، شفافیت اور کسانوں کو جواب دینے کی صلاحیت کا بھی امتحان بن چکا ہے۔