ترنمول کانگریس (TMC) کے 20 لوک سبھا ارکان نے پارٹی سے الگ ہو کر ایک دوسری سیاسی تنظیم NCPI میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بعد میں ان ارکان نے پارلیمنٹ نے اپنا الگ گروپ بنا لیا اور این ڈی اے کی میٹنگز میں بھی شرکت کی۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ یہ ارکان جس پارٹی کے نشان پر الیکشن جیت کر آئے تھے، اس سے الگ ہو کر دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ جانے کا مطلب ہے کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر پارٹی چھوڑ دی۔ ٹی ایم سی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان 20 ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کی جائے اور انہیں نااہل قرار دیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق ارکان نے TMC چھوڑ کر دوسری سیاسی تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔
ٹی ایم سی سپریم کورٹ کیوں گئی ؟
ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپیکر اوم برلا کے پاس ان 20 ارکان کو نااہل قرار دینے کی درخواستیں موجود ہیں، لیکن ان پر فیصلہ ہونے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ٹی ایم سی چاہتی ہے کہ اسپیکر اس معاملے پر ایک مقررہ وقت کے اندر فیصلہ کریں۔
سپریم کورٹ نے کیا کیا؟
منگل کو چیف جسٹس سوریا کانت کی قیادت میں سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ان 20 ارکان کو نوٹس بھیجا۔ یعنی عدالت نے ان ارکان سے پوچھا ہے کہ ٹی ایم سی کی درخواست پر ان کا کیا مؤقف ہے اور انہیں نااہل کیوں نہ قرار دیا جائے؟
اسپیکر کو نوٹس کیوں نہیں ملا؟
سپریم کورٹ نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ وہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بھی نوٹس جاری کرے گی۔ لیکن اسپیکر کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ اسپیکر کی جانب سے عدالت میں جواب دیں گے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر کے دفتر نے پہلے ہی ان 20 ارکان کو نااہلی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اسپیکر کو الگ سے نوٹس جاری نہیں کیا۔ جسٹس جوی مالیہ باغچی نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اسپیکر نے نوٹس جاری کیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ نااہلی کی کاروائی کب تک مکمل ہوگی اور فیصلہ کب آئے گا۔
ارکان کا کیا کہنا ہے؟
ٹی ایم سی کے باغی 20 ارکان پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ ان کا "NCPI" میں جانا ایک قانونی انضمام ہے، اس لیے انہیں پارٹی چھوڑنے کی بنیاد پر نااہل نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی چھوڑنے کے مترادف ہے اور ان پر آئین کے دَل بدلی مخالف قانون کے تحت کاروائی ہونی چاہیے۔ اسپیکر اوم برلا پہلے ہی 20 باغی ارکان کو نوٹس جاری کر چکے ہیں۔ یہ بات سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے آج سپریم کورٹ کو بتائی۔ یعنی اسپیکر نے معاملے پر کاروائی شروع کر دی ہے، لیکن ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر سے پہلے بھی رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے 27 جولائی کو تحریری یاد دہانی بھیجی اور 12 اگست کو اوم برلا سے ملاقات کرکے 20 ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی اپیل کی تھی۔سپریم کورٹ کا اصل زور 20 ارکان پارلیمنٹ کو صرف نوٹس دینے پر نہیں بلکہ کاروائی کو ایک مقررہ مدت میں مکمل کرنے پر ہے۔ جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ نااہلی کی کاروائی کب تک مکمل ہوگی۔ٹی ایم سی ان ارکان پر آئین کے دسویں شیڈول کے تحت موجود انسدادِ بدعنوانی نہیں بلکہ (Anti-Defection Law) کے تحت کاروائی چاہتی ہے۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ دوسری سیاسی تنظیم میں جانا پارٹی کی رکنیت رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کے مترادف ہے، جبکہ باغی ارکان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک جائز انضمام ہے۔