Tuesday, August 25, 2026 | 10 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، میل ان ووٹنگ پر ٹرمپ کے حکم کی راہ ہموار

امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، میل ان ووٹنگ پر ٹرمپ کے حکم کی راہ ہموار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 25, 2026 IST

امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، میل ان ووٹنگ پر ٹرمپ کے حکم کی راہ ہموار
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹیو آرڈر کے نفاذ کی راہ ہموار کردی ہے، جس کے ذریعے میل ان ووٹنگ کے طریقۂ کار پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل اس حکم کو کس حد تک عملی طور پر نافذ کر پائے گی۔
 
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اگرچہ انتظامیہ کو آگے بڑھنے کا موقع مل گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس معاملے پر مزید عدالتی چیلنجز سامنے آسکتے ہیں۔ نئی قانونی کارروائیاں ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے پر عمل درآمد کو مزید سست کر سکتی ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی محکمۂ ڈاک نے بھی صدر کے حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم کئی ریاستوں میں ووٹروں کو میل ان بیلٹ بھیجنے کا عمل آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں انتخابی نظام میں بڑی تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے انتظامیہ کے پاس محدود وقت باقی ہے۔
 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے میل ان ووٹنگ پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور اسے انتخابی دھاندلی کے خدشات سے جوڑتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے نظام میں بے ضابطگیوں کا امکان موجود ہے، جبکہ اس طریقۂ کار کے حامی اسے ووٹروں کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیتے ہیں۔ محکمۂ انصاف نے اس معاملے میں ہنگامی اپیل بھی دائر کی تھی، جس میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل انتظامیہ کو مجوزہ تبدیلیاں نافذ کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ معاملہ امریکی عدالتوں کے سامنے ووٹنگ سے متعلق جاری کئی اہم قانونی تنازعات میں سے ایک بن سکتا ہے۔
 
 
دوسری جانب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات کو لے کر بھی کشیدگی جاری ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کینیڈا مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور تجارتی معاملات پر سمجھوتے کی سنجیدہ کوشش کرے۔     ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر کینیڈا امریکہ کی 51ویں ریاست بن جائے تو اسے محصولات سے بچنے کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
 
اسکاٹ بیسنٹ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی تجارتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کو گزشتہ ہفتے ایک بہتر تجارتی پیشکش کی گئی تھی، تاہم اسے مسترد کردیا گیا۔امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازع دونوں ممالک کے باہمی اقتصادی تعلقات کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے، جبکہ آئندہ مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔