Tuesday, August 25, 2026 | 10 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • تہواروں کے سیزن سے پہلے آن لائن سیلرز کو جھٹکا،فیس اور جرمانوں میں بڑی تبدیلی

تہواروں کے سیزن سے پہلے آن لائن سیلرز کو جھٹکا،فیس اور جرمانوں میں بڑی تبدیلی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 25, 2026 IST

تہواروں کے سیزن سے پہلے آن لائن سیلرز کو جھٹکا،فیس اور جرمانوں میں بڑی تبدیلی
ای کامرس کمپنیوں جیسے ایمیزون اور فلپ کارٹ نے انڈیا میں تہواروں کے شاپنگ سیزن سے پہلے اپنے پلیٹ فارم پر سیلرز کے لیے فیس اور جرمانوں کے نظام میں تبدیلی کی ہے۔ کچھ آن لائن سامان بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ ان نئی فیسوں اور جرمانوں کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے اخراجات بڑھ جائیں گے، جبکہ وہ پہلے ہی کم منافع کما رہے ہیں۔
 
 ایمیزون نے منسوخی کی فیس بدل دی
 
ایمیزون انڈیا،  نے اپنے سیلر فورم پر جاری ایک نوٹس میں بتایا کہ 17 اگست 2026 سے "Easy Ship اور Self Ship" استعمال کرنے والے سیلرز کے لیے آرڈر منسوخ کرنے کی فیس کا طریقہ تبدیل کردیا گیا ہے۔ "Easy Ship" میں سیلر اپنا سامان خود رکھتا اور پیک کرتا ہے، جبکہ ایمیزون کا ڈیلیوری نظام اسے سیلر سے لے کر خریدار تک پہنچاتا ہے۔ Self Ship میں سیلر اپنی طرف سے کورئیر یا ڈیلیوری سروس کا استعمال کرکے سامان خریدار تک پہنچاتا ہے۔ نئے نظام کے تحت اگر سیلر خریدار کی درخواست کے علاوہ کسی اور وجہ سے آرڈر منسوخ کرتا ہے تو اس پر آرڈر کی قیمت کے حساب سے فیس لگائی جائے گی۔ 10 ہزار روپے تک کے آرڈر پر 10 فیصد، 10,001 سے 50 ہزار روپے تک کے آرڈر پر 8 فیصد، 50,001 سے 1 لاکھ روپے تک کے آرڈر پر 5 فیصد اور 1 لاکھ روپے سے زیادہ کے آرڈر پر 2 فیصد فیس ہوگی۔ اس کے علاوہ GST بھی لاگو ہوگا۔ اگر سیلر 24 گھنٹے کے اندر آرڈر کی شپمنٹ کی تصدیق نہیں کرتا تو آرڈر خود بخود منسوخ ہونے کی صورت میں بھی یہ فیس لگ سکتی ہے۔
 
 ایمیزون کی دوسری فیس بھی بڑھے گی
 
ایمیزون نے ایک اور نوٹس میں بتایا کہ 7 ستمبر 2026 سے "Fulfillment Centre، Easy Ship" اور "Seller Flex" کے ذریعے فروخت ہونے والی مصنوعات پر "Ending Fee" میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ 500 روپے تک کی مصنوعات پر یہ فیس1 روپے اور 500 روپے سے زیادہ قیمت والی مصنوعات پر 3 روپے بڑھ جائے گی۔ ایمیزون کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد سیلرز کو آرڈرز وقت پر مکمل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ کمپنی کے مطابق سیلر کی طرف سے ہونے والی منسوخیاں مجموعی آرڈرز کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
 
 سیلرز نے ایمیزون کی پالیسی پر سوال اٹھائے
 
ایمیزون کے سیلر فورم پر کچھ فروخت کنندگان نے نئی فیس پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات آرڈر منسوخ ہونے کی وجہ سیلر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر ڈیلیوری اہلکار مقررہ وقت پر سامان لینے نہ پہنچے تو ایسی صورتحال میں بھی سیلر کو منسوخی کی فیس دینی ہوگی۔ ایک سیلر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف ایمیزون ڈیلیوری سروسز استعمال کرنے والے سیلرز کے درمیان ایک جیسے آرڈرز پر مجموعی فیس میں فی یونٹ 45 روپے تک کا فرق ہو سکتا ہے۔
 
فلپ کارٹ نے بھی جرمانے کا نیا نظام بنایا
 
دوسری جانب فلپ کارٹ  نے 23 اگست 2026 سے سیلرز کی کچھ غلطیوں یا تاخیر کے لیے تین درجوں والا جرمانے کا نظام نافذ کیا ہے۔ اگر کوئی کھیپ مقررہ تاریخ یعنی "Committed Dispatch By Date" تک پک اپ کے لیے تیار نہیں ہوتی تو 30 روپے فی کھیپ جرمانہ ہوگا۔ اگر سیلر خود آرڈر منسوخ کرتا ہے یا مقررہ ڈسپیچ تاریخ تین بار گزرنے کے بعد آرڈر خود بخود منسوخ ہوجاتا ہے تو 60 روپے فی کھیپ جرمانہ ہوگا۔ اگر آرڈر میں تاخیر بھی ہو اور بعد میں منسوخ بھی ہوجائے تو جرمانہ بڑھ کر 90 روپے فی کھیپ ہوسکتا ہے۔
 
 
نئے فلپ کارٹ سیلرز کو کچھ عرصے تک چھوٹ
 
فلپ کارٹ پر نئے سیلرز کو اس نئی پالیسی سے فوری طور پر متاثر نہیں کیا جائے گا۔ جو سیلرز اپنا کاروبار شروع کرنے کے بعد پہلے تین ماہ میں ہیں، ان پر یہ جرمانے لاگو نہیں ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق نئے نظام کا مقصد سیلرز کو آرڈرز کی بہتر منصوبہ بندی کرنے اور وقت پر سامان بھیجنے کی ترغیب دینا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے سیلرز کو کچھ اضافی فوائد بھی دیے جائیں گے، جن میں ادائیگیوں کا تیز تصفیہ اور مفت اشتہاری کریڈٹ شامل ہیں۔
 
 تہواروں کے سیزن سے پہلے سیلرز کی تشویش
 
فورم فار انٹرنیٹ ری سیلرز، سیلرز اینڈ ٹریڈرز (FIRST INDIA) کے ٹرسٹی ونود کمار نے کہا کہ آن لائن سیلرز وقت پر آرڈر مکمل کرنے اور اچھی کسٹمر سروس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق منسوخی، ڈسپیچ میں تاخیر اور دیگر معاملات پر جرمانوں میں اضافہ، خاص طور پر تہواروں کے سیزن سے پہلے، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر تاخیر یا منسوخی سیلر کی غلطی سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات لاجسٹکس، پلیٹ فارم کے مسائل، اچانک زیادہ آرڈرز یا خود گاہک سے متعلق وجوہات بھی اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔
 
ایمیزون  اور فلپ کارٹ دونوں نے سیلرز کے لیے فیس اور جرمانوں کے نظام میں تبدیلی کی ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس سے وقت پر آرڈر مکمل کرنے اور کسٹمر سروس بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ کچھ سیلرز کو خدشہ ہے کہ نئی فیس اور جرمانوں سے ان کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔