راجستھان میں سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے چلائی جا رہی ’School Theek Karo‘ مہم کے درمیان ریاستی حکومت نے اسکولوں میں تعمیر و مرمت کے کام کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ مختص کرنے کا روڈ میپ تیار کیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب کاکروچ جنتا پارٹی کی ایک ٹیم نے جے پور کے باگرو علاقے میں ایک سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیم کے مطابق، وہاں انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اسکول کا معائنہ کیے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد ریاست میں سرکاری اسکولوں کی حالت اور بنیادی سہولیات کو لے کر بحث تیز ہوگئی۔
اسکولوں کی مرمت کے لیے 12,500 کروڑ روپے کا منصوبہ
حکومت کی جانب سے اب سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، بنیادی سہولیات اور ضروری تعمیراتی کاموں کو بہتر بنانے کے لیے 12,500 کروڑ روپے کے روڈ میپ کی بات سامنے آئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ریاست کے مختلف سرکاری اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کو مرحلہ وار حل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کو سی جے پی، نے اپنی ’School Theek Karo‘ مہم کی کامیابی قرار دیا ہے۔ پارٹی مسلسل سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، کلاس رومز، بیت الخلا، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
آشوتوش رانکا نے کیا کہا؟
راجستھان حکومت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ترجمان آشوتوش رانکا نے اسے پارٹی کی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا۔رانکا نے ایک پوسٹ میں کہا کہ رام پورہ واقعے کے بعد راجستھان حکومت کی جانب سے اسکولوں کی مرمت کے لیے 12,500 کروڑ روپے مختص کرنے کا روڈ میپ ’کاکروچ از بیک‘ تحریک کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔انہوں نے اس پیش رفت کو اسکولوں کے مسائل کو مسلسل اٹھانے کی مہم کا نتیجہ قرار دیا۔
سرکاری اسکولوں کی حالت پر بحث تیز
اس اعلان کے بعد راجستھان کے سرکاری اسکولوں کی حالت ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ریاست میں بڑی تعداد میں طلبہ سرکاری اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں عمارتوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری کو تعلیم کے معیار سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کی جانب سے تیار کیا گیا 12,500 کروڑ روپے کا روڈ میپ عملی طور پر کب اور کس انداز میں نافذ ہوتا ہے اور اس کا فائدہ ریاست کے سرکاری اسکولوں اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ تک کس حد تک پہنچتا ہے۔