سرمایہ کاری کی رقم مختصر مدت میں دوگنی کرنے کا لالچ دے کر ملک بھر میں ہزاروں کروڑ روپے کے مبینہ مالی گھوٹالے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ جعلسازوں نے درجنوں کمپنیاں قائم کرکے سرمایہ کاروں سے بڑی رقم جمع کی اور بعد میں اس رقم کو مبینہ طور پر ہڑپ کر لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں تقریباً 35 لاکھ سرمایہ کاروں سے بڑی رقم جمع کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں سے مجموعی طور پر تقریباً 492 کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کی اطلاعات ہیں۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری سے متعلق اس بڑے گھوٹالے کی تحقیقات سی آئی ڈی کے حوالے کی گئی ہیں۔ جبل پور سی آئی ڈی مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع میں درج مقدمات کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے۔
جبل پور سی آئی ڈی کے مطابق اشوک نگر، ٹیکم گڑھ، دموہ اور ودیشا میں سرمایہ کاری سے متعلق 11 مقدمات کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ تقریباً 1600 سرمایہ کاروں سے رقم جمع کرکے مبینہ طور پر 42 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔تحقیقاتی ایجنسی اب ان تمام کمپنیوں کے مالی لین دین، بینک کھاتوں، سرمایہ کاروں سے جمع کی گئی رقم اور کمپنیوں سے وابستہ افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہے۔ سی آئی ڈی 11 کیس ڈائریوں کی بنیاد پر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کے اسی طرح کے الزامات مدھیہ پردیش کے بھوپال، شہڈول اور سنگرولی سے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان معاملات میں بھی سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع اور رقم دوگنی کرنے کا لالچ دے کر رقم جمع کیے جانے کی شکایات کی گئی ہیں۔تحقیقاتی ادارے کو شبہ ہے کہ مختلف مقامات پر کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ تاہم اس پورے نیٹ ورک کی حقیقت اور مبینہ گھوٹالے میں شامل افراد کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔سی آئی ڈی اب یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم کہاں منتقل کی گئی اور اس رقم کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا گیا۔ معاملے میں مزید گرفتاریوں اور بڑے انکشافات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔