ڈی ایم کے صدر اور تمل ناڈو کے سابق وزیرِ اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کولاتھور اسمبلی حلقے سے متعلق مدراس ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ اسٹالن نے عدالت میں انتخابی عرضی دائر کرتے ہوئے حلقے سے منتخب امیدوار وی ایس بابو کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے اور خود کو کولاتھور اسمبلی حلقے سے منتخب قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ اسٹالن کی جانب سے دائر درخواست میں انتخابی عمل، ووٹنگ مشینوں اور ووٹنگ کے بعد ہونے والی جانچ سے متعلق کئی نکات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست کے مطابق، انتخابات مکمل ہونے اور نتائج کے اعلان کے بعد اسٹالن نے سینئر وکیل این آر ایلنگو کو اپنا مجاز نمائندہ مقرر کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نمائندے کو انتخابی عمل میں استعمال ہونے والے مختلف الیکٹرانک یونٹس کی جانچ اور تصدیق کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
درخواست میں خاص طور پر کنٹرول یونٹ، بیلٹ یونٹ اور وی وی پی اے ٹی میں موجود مائیکرو کنٹرولر کی جانچ اور تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسٹالن کے مطابق، انتخابات کے بعد ان کے مجاز نمائندے کے ذریعے ان نظاموں کی جانچ کا عمل کیا جانا تھا تاکہ انتخابی عمل سے متعلق ریکارڈ اور تکنیکی تفصیلات کی تصدیق کی جاسکے۔اسٹالن نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق ان کے اعتراضات اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیا جائے۔ ان کی درخواست کا بنیادی مقصد کولاتھور اسمبلی حلقے کے موجودہ انتخابی نتیجے کو چیلنج کرنا ہے۔
ڈی ایم کے صدر نے اپنی انتخابی عرضی میں عدالت سے صرف وی ایس بابو کے انتخاب کو منسوخ کرنے کی درخواست ہی نہیں کی بلکہ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں کولاتھور اسمبلی حلقے سے منتخب امیدوار قرار دیا جائے۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کولاتھور اسمبلی حلقہ ایم کے اسٹالن کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے اور وہ اس حلقے سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مسلسل نمایاں رہے ہیں۔ انتخابی نتیجے کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے بعد اب اس معاملے کا قانونی رخ اہم ہوگیا ہے۔
اب مدراس ہائی کورٹ میں اس انتخابی عرضی پر سماعت کے دوران عدالت اسٹالن کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل، انتخابی ریکارڈ اور تکنیکی جانچ سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ دوسری جانب وی ایس بابو اور متعلقہ انتخابی حکام کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملے گا۔فی الحال اسٹالن کی جانب سے دائر درخواست ایک قانونی چیلنج ہے اور اس پر حتمی فیصلہ عدالت کی آئندہ کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس معاملے میں عدالت کا فیصلہ نہ صرف کولاتھور اسمبلی حلقے کے انتخابی نتیجے کے لیے اہم ہوگا بلکہ انتخابی مشینوں اور وی وی پی اے ٹی کی جانچ سے متعلق قانونی بحث کے حوالے سے بھی اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔