ملک میں چینی کے بعد اب پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ کئی ریاستوں میں پیاز کی خوردہ قیمت 40 سے 50 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ چینی اور پیاز دونوں کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ ایسے وقت میں مرکزی حکومت نے قیمتوں پر قابو پانے اور بازار میں پیاز کی دستیابی بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کیے ہیں۔
مرکزی حکومت نے پیاز کی سپلائی بڑھانے کے لیے مہاراشٹر سے خصوصی ریلوے ریک ’کنڈا ایکسپریس‘ روانہ کی ہے۔ یہ ٹرین منگل کو دہلی پہنچے گی، جس کے بعد پیاز کو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد زیادہ مانگ والے علاقوں میں پیاز کی دستیابی بڑھا کر قیمتوں کو قابو میں لانا ہے۔
مرکزی حکومت کے منصوبے کے مطابق دہلی-این سی آر، چنئی، کولکاتا اور گوہاٹی سمیت بڑے شہروں میں پیاز 35 روپے فی کلو کی شرح سے فروخت کیا جائے گا۔ امور صارفین کی وزارت کی سکریٹری ندھی کھرے کے مطابق، خصوصی ریلوے ریک کے ذریعے پیاز کی سپلائی بڑھنے کے بعد بازار میں صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خوردہ بازار میں پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو جلد قابو میں لایا جائے۔
پیاز اور چینی جیسی روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تہواروں کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ اس دوران گھریلو اخراجات پہلے ہی بڑھ جاتے ہیں، ایسے میں سبزیوں اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عام صارفین کے لیے اضافی مالی دباؤ کا سبب بن رہا ہے۔ اب حکومت کی جانب سے خصوصی پیاز سپلائی شروع کیے جانے کے بعد سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا ’کنڈا ایکسپریس‘ کی سپلائی سے واقعی بازار میں پیاز کی قیمتیں کم ہوتی ہیں یا عام آدمی کو مزید انتظار کرنا پڑے گا۔