• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • دتیا ضمنی انتخاب میں کانگریس کو ابتدائی برتری، بی جے پی کو جھٹکا

دتیا ضمنی انتخاب میں کانگریس کو ابتدائی برتری، بی جے پی کو جھٹکا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 03, 2026 IST

دتیا ضمنی انتخاب میں کانگریس کو ابتدائی برتری، بی جے پی کو جھٹکا
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جہاں ابتدائی رجحانات نے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ گنتی کے ابتدائی ادوار میں کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ نے برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار آشوتوش تیواری دوسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔
 
ابتدائی رجحانات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے قبل مدھیہ پردیش کے سابق وزیر داخلہ اور دتیا کے سابق رکن اسمبلی نروتم مشرا نے بی جے پی کی یقینی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم، سامنے آنے والے ابتدائی نتائج اس دعوے کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں، جس کے بعد سیاسی مبصرین اس نشست پر کانٹے دار مقابلے کی بات کر رہے ہیں۔
 
الیکشن کمیشن کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گنتی کے چوتھے راؤنڈ تک کانگریس کے امیدوار گھنشیام سنگھ کو 4,808 ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جبکہ بی جے پی کے آشوتوش تیواری 4,058 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس طرح کانگریس کو اس مرحلے پر 783 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔
 
اس انتخاب میں چندر شیکھر آزاد کی جماعت آزاد سماج پارٹی (کاشیرام) کے امیدوار بھی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہیں چوتھے راؤنڈ تک 2,025 ووٹ مل چکے ہیں، جس کے باعث مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے ووٹوں کی تقسیم پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
 
ووٹ شیئر کے لحاظ سے بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ کو اب تک 39.57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جبکہ بی جے پی کے آشوتوش تیواری 39.47 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ ان کے بالکل قریب ہیں۔ دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق نہایت معمولی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آئندہ راؤنڈز میں نتائج کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔
 
اس حلقے میں مجموعی طور پر 21 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ NOTA (None of the Above) بھی ووٹرز کے لیے ایک آپشن کے طور پر موجود ہے۔ اب تک 70 ووٹرز نے NOTA کا انتخاب کیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے کے خواہاں نہیں تھے۔ تاہم انتخابی قواعد کے مطابق، اگر NOTA کو سب سے زیادہ ووٹ بھی مل جائیں تو بھی کامیاب امیدوار وہی قرار پاتا ہے جسے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوں۔
 
ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے، اس لیے حتمی نتیجہ سامنے آنے تک سیاسی صورتحال میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔