افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے اندر داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ کاروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف دو روز قبل پاکستان کی فوجی کاروائیوں میں افغانستان کے مطابق کم از کم 36 شہری ہلاک ہوئے تھے۔افغانستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی حالیہ سرحدی کاروائی کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق پاکستانی کاروائیوں میں کم از کم 36 شہری ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے۔
طالبان حکومت نے پاکستان کی کاروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آبادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے الزام لگایا کہ پہلے پکتیہ صوبے کے ضلع چمکنی( Chamkan) میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک بزرگ اور ایک بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق جب مقامی لوگ زخمیوں کو نکالنے کے لیے جمع ہوئے تو اسی مقام پر دوبارہ حملہ کیا گیا، جس میں 28 دیہاتی ہلاک اور 158 افراد زخمی ہوئے۔
افغان حکام کے مطابق فضائی حملوں میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان(Saranan )میں داعش کے ایک مشترکہ آپریشنل مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے مبینہ طور پر افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ افغانستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں داعش سے منسلک بعض دیگر ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں زمینی آپریشن کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں 29 عسکریت پسند مارے گئے۔ ان کے مطابق یہ کاروائی پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اس واقعے کے بعد افغانستان نے کابل میں موجود پاکستانی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ میں بلا کر شدید احتجاج د رج کرایا کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان فضائی حملوں کی خلاف ورزی کی اور سخت اعتراض کیا گیا۔دوسری جانب پاکستان نے اب تک افغانستان کے ان تازہ فضائی حملوں کے دعوؤں پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
حالیہ واقعات سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے دونوں جانب فوجی کاروائیاں اور سفارتی تنازعات جاری ہیں۔ اگرچہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی بار مذاکرات ہوئے، لیکن اب تک دونوں ممالک کسی مستقل جنگ بندی یا دیرپا حل تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔