مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سماج وادی پارٹی نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے سیاسی مشاورتی فرم'آئی -پیک(انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی)کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا ہے۔
آئی -پیک سے سپا نے ناطہ کیوں توڑا؟
قانونی مسائل میں گھری I-PAC کے ذرائع نے بتایا کہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ اس سال کے آغاز میں طے پانے والا معاہدہ اب منسوخ ہو چکا ہے۔ سماج وادی پارٹی کا 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے I-PAC کے ساتھ سیاسی مشاورت کا معاہدہ ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق، قانونی جھمیلوں میں الجھی I-PAC کی انتخابی ناکامیوں اور سماج وادی پارٹی کے اندرونی اعتراضات کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، فرم کی کم سرگرمی کی وجہ سے TMC اور I-PAC کے درمیان بھی دوریاں بڑھ گئیں۔پاتریکا نیوز کے مطابق آئی -پیک کے کئی ذرائع نے تصدیق کی کہ ای ڈی کے چھاپوں کے بعد ٹی ایم سی رہنماؤں کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہو گئے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ رہنماؤں کو انتخابات سے پہلے مکمل مدد کی توقع تھی، لیکن زمینی سطح پر ہماری کم سرگرمی نے انہیں ناراض کر دیا۔
یوپی میں I-PAC کا دفتر بند:
قانونی کاروائیوں کی وجہ سے I-PAC کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کمپنی نے اتر پردیش میں اپنا دفتر بند کر دیا ہے اور تقریباً 30 سے 40 ملازمین کو کام پر نہ آنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے۔ اس سے سماج وادی پارٹی کی انتخابی مہم کی تیاریوں کے ٹھپ ہونے کا اشارہ ملا ہے۔ وہیں I-PAC کے ایک سینئر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ کئی عوامل نے اس معاہدے کے ٹوٹنے میں کردار ادا کیا۔ ممتا بنرجی کی جانب سے پارلیمنٹ میں مفاہمت کروانے میں I-PAC کا اہم کردار تھا، لیکن یوپی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیے گئے 'چندیل' کی ای ڈی کے ہاتھوں گرفتاری نے اس منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا۔
سماج وادی پارٹی میں بے چینی:
ذرائع کے مطابق، I-PAC کے سابق ملازمین کی قیادت میں ایک دوسری فرم 2027 کے انتخابات سے قبل پارٹی کی مدد کر سکتی ہے۔ تاہم، سماج وادی پارٹی کے اندر بیرونی مشیروں پر انحصار کو لے کر بے چینی بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ چندیل کی گرفتاری کے بعد I-PAC کے ساتھ معاہدہ توڑنا متوقع تھا۔ اس سے پارٹی رہنماؤں کے درمیان غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے حالیہ انتخابی نتائج نے بھی پارٹی کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا، جہاں I-PAC برسرِ اقتدار جماعتوں کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ ایک اور سینئر رہنما نے کہا کہ اکھلیش یادو زمینی کارکنوں کے فیڈ بیک کو نجی ایجنسیوں کی معلومات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور اب پارٹی کیڈر پر مبنی سیاست پر زور دے رہی ہے۔
I-PAC کے دفتر میں چھاپہ کب پڑا؟
ای ڈی نے بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل 8 جنوری 2026 کو کولکتہ میں واقع I-PAC کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔ کوئلہ اسمگلنگ کیس میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت کی گئی اس کاروائی کے ایک دن بعد کمپنی نے اسے عوامی کیا تھا۔ چھاپے کے بعد کے ہفتوں میں I-PAC نے بنگال میں اپنی سرگرمیاں کافی حد تک کم کر دی تھیں۔ ریاست میں کئی دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے گئے یا عملے کی تعداد کم کر دی گئی، جبکہ غیر ضروری تشہیری کام بھی روک دیے گئے۔