ایران کی اسپیشل فورس اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس انتقامی موڈ میں ہے اور پورے مشرقی وسطی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دیر رات دبئی میں امریکی سفارت خانہ کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارتی مشنز کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل کویت اور ریاض میں امریکی سفارتخانوں پر بھی حملے کیے گئے تھے۔مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایک زوردار دھماکہ سنا اور ایک خاتون نے کہا کہ دھماکے کے بعد آگ کی لکیریں دیکھیں۔ پولیس نے علاقے کی سڑکیں بند کر دی اور نقصان دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے افراد کو ہٹایا۔
امریکہ فوجی کا بڑا دعوی
امریکہ فوجی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے اب تک ایران میں کئی اہداف کو پورا کیا ہے۔ جو خطے میں پچھلی کئی دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی تعیناتی ہے۔اڈمیرل براڈ کوپر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ ہم نے 2,000 سے زیادہ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ہم نے ایران کی فضائی دفاع کو شدید نقصان پہنچایا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے پہلے 24 گھنٹے عراق پر 2003 کے حملوں کے پہلے دن سے تقریباً دوگنا تھے، اور اب بھی ایران پر 24 گھنٹے حملے جاری ہیں۔
وہیں دوسری طرف امریکی ایوان کےاسپیکر مائک جانسن نے کہا کہ ایران تیز ی سے اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیتیں بڑھا رہا تھا۔ جس سے خطے میں امریکی اتحادی ممالک کو خطرہ لاحق ہو گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام میں اس اضافے نے خطے میں سلامتی کے توازن کو متاثر کیا اور یہ امریکی دفاعی مفادات اور علاقائی استحکام کے لیے باعث تشویش ہے۔ مائیک جانسن کے مطابق، خطے میں اتحادیوں کی حفاظت اور ایران کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔