مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اس دوران جموں و کشمیر کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اور مؤثر اقدامات پر غور کیا گیا۔ امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی مربوط کاوشوں سے جموں کشمیر میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل چوکس رہیں۔ اور باہمی تال میل سے کام جاری رکھیں۔ مرکزی وزیر داخلہ نے انتہاپسندی کے خاتمے اور نوجوانوں سے رابطہ اورنوجوانوں کی شمولیت کے پروگراموں کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ تاکہ جلد سے جلد دہشت گردی سے پاک جموں کشمیر کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا نکسلیوں کو آخری وارننگ
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا یہ تین روزہ دورہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند کرے گا بلکہ بستر کے باقی بچے پانچ فیصد نکسلی علاقوں کو بھی نکسلیوں سے آزاد کرانے کی آخری حکمت عملی ثابت ہوگا۔ اس کے ذریعے نکسلواد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جائے گی، کیونکہ یہ مسئلہ اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں مرکزی وزیرِ داخلہ کی جانب سے نکسلیوں کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن (31 مارچ 2026) اب بہت قریب آ چکی ہے۔ اس ہدف کے لیے صرف 53 دن باقی رہ گئے ہیں۔
شاہ 9 فروری کو بستر پنڈوم کے اختتامی پروگرام میں شریک ہوں گے
جہاں صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو 7 فروری کو بستر میں منعقد ہونے والے ڈویژن سطح کے بستر پنڈوم کا افتتاح کریں گی، وہیں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 9 فروری کو اس کے اختتامی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس دوران وہ بستر کے کچھ اندرونی علاقوں کا دورہ بھی کریں گے اور سیکیورٹی فورسز کے سینئر افسران سے ملاقات کر کے نکسلی حکمتِ عملی پر غور و خوض کریں گے۔
ترقی کے ذریعے بھی نکسلواد کو شکست
چھتیس گڑھ میں جہاں نکسلیوں کا تیزی سے خاتمہ کیا جا رہا ہے، وہیں بستر کے اندرونی علاقوں میں بندوق کے بجائے ترقی کے ذریعے ماؤواد کو شکست دی جا رہی ہے۔گزشتہ دو برسوں سے منعقد ہونے والے بستر پنڈوم جیسے ثقافتی پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت قبائلی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے انہیں ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑ رہی ہے۔ بستر ڈویژن میں 135 نئے سیکیورٹی کیمپ قائم ہونے سے دیہات میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 58 نئے سیکیورٹی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ بستر کا 95 فیصد علاقہ اب تشدد سے پاک ہے۔ جن 40 دیہاتوں میں کبھی کالے جھنڈے لہرایا کرتے تھے، وہاں اس سال پہلی بار یومِ جمہوریہ پر ترنگا لہرایا گیا۔
317 نکسلی ہلاک، 1973 نے مرکزی دھارے میں واپسی کی
سال 2025 میں نکسلی مڈبھیڑوں کے دوران 317 ماؤوادی مارے گئے۔ ان میں نکسلیوں کے جنرل سیکریٹری اور بدنام نکسلی بسوراجو، اور ہڈما جیسے مرکزی کمیٹی کے 11 اعلیٰ سطحی ارکان شامل تھے۔ اب تک 1973 نکسلی ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آ چکے ہیں، جو حکومت کی نکسلی بازآبادکاری پالیسی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔