ڈاکٹر شجاع الزمان بلال، کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ اپولو ہاسپٹل DRDO حیدرآباد
حیدرآباد: دماغ، اعصاب اور پٹھوں سے متعلق بیماریوں کو مجموعی طور پر نیورولوجی مسائل کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سر درد، مائیگرین، چکر آنا، ہاتھ پاؤں میں سن ہونا، سوئیاں چبھنے کا احساس یا یادداشت کی کمزوری جیسی علامات کو اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ علامات سنگین نیورولوجیکل مسائل کی ابتدائی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔
اسی حوالے سے ایک خصوصی آگاہی پروگرام میں اپولو ہاسپٹل DRDO حیدرآباد کے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر شجاع الزمان بلال نے جنرل نیورولوجی مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سادہ اور عام فہم زبان میں بتایا کہ نیورولوجی بیماریاں کیوں ہوتی ہیں، ان کی ابتدائی علامات کیا ہیں اور کن حالات میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر شجاع الزمان بلال کے مطابق نیورولوجی مسائل دماغ، ریڑھ کی ہڈی، اعصاب اور پٹھوں کو متاثر کرتے ہیں۔ عام علامات میں مسلسل سر درد، مائیگرین، جسم کے کسی حصے میں کمزوری، سن ہونا، جھنجھناہٹ، بولنے یا دیکھنے میں دشواری، یادداشت کی خرابی اور توازن بگڑنا شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر سر درد نیورولوجیکل مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن اگر سر درد بار بار ہو، شدت اختیار کر لے، قے، نظر کی دھندلاہٹ یا بے ہوشی کے ساتھ ہو تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔ مائیگرین کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیورولوجیکل بیماری ہے جس کی بڑی وجوہات میں ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، ہارمونل تبدیلیاں اور کچھ مخصوص غذائیں شامل ہیں۔
ڈاکٹر شجاع کے مطابق ہاتھ پاؤں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنے کا احساس اعصابی دباؤ، شوگر سے متاثرہ اعصاب یا ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اسی طرح یادداشت کی کمزوری ہر بار ڈیمنشیا کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ نیند کی کمی، ڈپریشن، وٹامن کی کمی اور اسٹریس بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مرگی (Epilepsy) کی تشخیص کے لیے EEG، ایم آر آئی اور مریض کی ہسٹری کو مدنظر رکھا جاتا ہے، جبکہ فالج (Stroke) کی ابتدائی علامات میں اچانک جسم کے ایک حصے میں کمزوری، بولنے میں دقت، منہ کا ٹیڑھا ہونا اور نظر کا متاثر ہونا شامل ہیں، جن کی صورت میں فوری ایمرجنسی طبی امداد لینا نہایت ضروری ہے۔
برین ٹیومر، پارکنسنز ڈیزیز اور ملٹی پل اسکلروسس جیسی بیماریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں کی بروقت تشخیص مریض کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ کمر درد بھی بعض اوقات نیورولوجیکل مسئلہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب درد کے ساتھ ٹانگوں میں کمزوری یا سن ہونا شامل ہو۔
ڈاکٹر شجاع الزمان بلال نے مزید کہا کہ چکر آنا اور توازن کا بگڑنا اعصابی نظام اور اندرونی کان کے مسائل سے جڑا ہو سکتا ہے۔ غیر صحت مند طرزِ زندگی، نیند کی کمی، سگریٹ نوشی، غیر متوازن غذا اور مسلسل ذہنی دباؤ اعصابی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اسٹریس نیورولوجیکل بیماریوں کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ نیند کی خرابی کا براہِ راست تعلق دماغی صحت سے ہے۔ نرو کنڈکشن اسٹڈی جیسے ٹیسٹ اعصاب کی کارکردگی جانچنے میں مدد دیتے ہیں اور درست تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔