ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سوڈان کی فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز(RSF) نے شمالی دارفور کے شہر الفشر میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی صفایا (Ethnic Cleansing) کا ارتکاب کیا ہے۔تنظیم کے مطابق یہ رپورٹ گزشتہ سال سامنے آنے والے شواہد کی بھی تصدیق کرتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ الفشر کے تقریباً 18 ماہ کے محاصرے کے دوران عام شہریوں پر بڑے پیمانے پر ظلم ڈھائے گئے۔
بچوں کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا
ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ کو سیکریٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے انسانیت کے ضمیر پر ایک داغ" قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو اتفاقی طور پر نہیں بلکہ جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں قتل، زخمی، اغوا، جنسی تشدد اور زبردستی مسلح گروہوں میں بھرتی کیے جانے جیسے سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔تنظیم نے فوری ملک گیر جنگ بندی اور سوڈان میں ایک آزاد بین الاقوامی امن فورس تعینات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
غیرعرب برادریوں کوخاص طورپرنشانہ بنایا گیا
رپورٹ کے مطابق زغاوا سمیت غیر عرب برادریوں (Zaghawa ethnic group),کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران نسلی گالیاں دی گئیں اور غلامی سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئےایمنسٹی کا کہنا ہے کہ RSF نے کئی دیہاتوں کو آگ لگا دی تاکہ وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ دوبارہ واپس نہ آ سکیں۔
قیدیوں پرتشدد کی تفصیلات سامنے آگئیں
ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ 247 افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی، جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو الفشر کے قریب مینا الباری Mina al-Bariحراستی مرکز میں قید رہے۔قیدیوں نے بتایا کہ انہیں بند شپنگ کنٹینرز میں رکھا جاتا تھا جہاں شدید گرمی اور ہوا کی کمی کے باعث سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ایک سابق قیدی نے بتایا:ہم بے ہوش ہو گئے تھے۔ RSF اہلکاروں نے ہمیں مردہ سمجھ کر باہر پھینک دیا، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم زندہ ہیں تو دوبارہ تشدد کر کے کنٹینرمیں واپس ڈال دیا۔
تین RSF کمانڈروں پر سنگین الزامات
ایمنسٹی نے تین سینئر RSF کمانڈروں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں بعض افراد پر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ
ایمنسٹی نے کہا کہ صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں بلکہ عالمی برادری کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔تنظیم نے انسانی امداد میں کمی، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) جیسے اداروں کی کمزور حمایت پر بھی تشویش ظاہر کی۔
الفشر میں قحط بھی سنگین صورت اختیار کر گیا
رپورٹ کے مطابق مئی 2024 سے اکتوبر 2025 تک الفشر کے محاصرے کے دوران شدید قحط بھی پھیل گیا۔خوراک کی شدید قلت کے باعث بہت سے خاندان امباز کھانے پر مجبور ہوئے، جو عام طور پر مونگ پھلی سے تیل نکالنے کے بعد بچنے والا بیکار حصّہ ہوتا ہے اور عموماً جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور امریکہ کا کردار بھی زیر بحث
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ RSF کی جڑیں جنجاوید(Janjaweed) ,ملیشیا سے ملتی ہیں، جس پر دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات RSF کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے،مختلف تحقیقات اور شواہد کے مطابق جنگ کے دوران RSF کو اسلحہ فراہم کیے جانے کے اشارے ملے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ نے خانہ جنگی کے دوران بھی متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھی۔
RSF کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ
امریکہ میں سوڈان کے سابق سفیر محمد عبداللہ ادریس نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ RSF کو بھی Boko Haram ، القاعدہ اور داعش کی طرح دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا:اگر بوکوحرم ، القاعدہ اور داعش دہشت گرد قرار دی جا سکتی ہیں، تو جنجاوید Janjaweed ، آر ایس ایف کیوں نہیں؟ ان کے جرائم بعض تنظیموں سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔"