قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔قطر نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، جن میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔ قطر کے مطابق مذاکرات مثبت رہے اور دونوں فریق آئندہ دنوں میں بھی بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مغربی ایشیا میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
خامنہ ای کی آخری رسومات، اگلے مذاکرات میں تاخیر
ایرانی حکام کے مطابق سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی کے درمیان ایران کے مختلف مقامات پر ادا کی جائیں گی۔اسی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے میں عارضی تاخیر متوقع ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق علی خامنہ 28 فروری کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
امریکی صدرٹرمپ کا بڑا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
North Dakota روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا "ہم نے گزشتہ ہفتے ایران کو سخت نقصان پہنچایا، لیکن اب معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔
دوحہ مذاکرات کیوں اہم ہیں؟
دوحہ میں ہونے والے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے۔ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، لیکن قطر کے مطابق مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک 14 نکاتی اہم مفاہمتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے ۔قطر کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد مذاکرات کا اگلا دور شروع ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات کے باوجود سفارتی رابطے برقرار ہیں۔