امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے( MOU)ہونے کے بعد ہرمزکا بحران بھی ٹل گیا ہے۔ اس کے بعد بھارت میں پٹرول-ڈیزل کی قیمت کم ہونے کی امید کی جا رہی ہیں۔ اس پرمرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ پوری کا کہنا ہے کہ اگر 2-3 مہینے تک گراوٹ جاری رہی تو قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ ہردیپ پوری نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا جب کہ بھارت میں صرف 5.58 فیصد کی بڑھوتری ہوئی۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی پرکیا بولے وزیر؟
پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں ہردیپ پوری نے کہا، کہ ہم آج اُس اسٹاک کو استعمال کررہے ہیں جس کو ہم نے دو مہینے پہلے خریدا تھا۔ اگر یہ گراوٹ 2-3 ماہ تک جاری رہی تو ہم دیکھیں گے، لیکن صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔"وزیر پٹرولیم نے کہا کہ 30 جون تک تیل کمپنیوں کو پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کو کم قیمت سے فروخت کرنے کی وجہ سے 74,781 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن کمپنیاں ابھی بھی مغربی ایشیائی بحران کے دوران خریدے گئے خام تیل کو پروسیس کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پرتیل کتنا مہنگا ہوگیا؟ہردیپ سنگھ پوری کا بیان
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کچھ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم بڑھی ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ چار ماہ میں فرانس میں پٹرول کی قیمتوں میں 17.74 فیصد، جرمنی میں 19.05 فیصد اور اٹلی میں 18.39 فیصد اضافہ ہوا۔ ہمارے پڑوسی ممالک کی بات کریں تو پاکستان میں میں 39.77فیصد، سری لنکا میں 36.66فیصد، نیپال میں 20.3فیصد اور بنگلہ دیش میں 42.69فیصداضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اور ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا ہے، وہیں ہندوستان میں پٹرول کی قیمتوں میں صرف 5.58 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہردیپ پوری نے مزید کہا کہ جون 2022 سے جون 2026 کے درمیان دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 5.58 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 6.23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ہرمز بحران کا بھارت پرکوئی اثر نہیں:ہردیپ پوری
ہردیپ پوری نے کہا کہ ہرمز بحران کا بھارت پر اثر نہیں دیکھا گیا۔ مارچ، اپریل، مئی اور جون کے مہینے میں کہیں بھی ایندھن کی کوئی قلت نہیں تھی۔ مجموعی طور پر، نہ تو کوئی رکاوٹ آئی ، نہ ہی کمی ہوئی اور نہ لمبی قطاریں لگیں ۔انہوں نے کہا، "میں ہمیشہ لوگوں سے کہتا ہوں کہ ہندوستان جیسا ملک اپنے آپ میں منفردہے۔ آپ ہماری صلاحیتوں کی پیمائش صرف اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو (SPR) کے ذخائر کی بنیاد پر نہیں کر سکتے۔
کب سستا ہوگا پٹرول اور ڈیزل؟
ہرمز بحران کی وجہ سے بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا۔ اب جبکہ بحران ختم ہو چکا ہے، امید ہے کہ جلد ہی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔"ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، "گزشتہ چار برسوں میں، دہلی میں پٹرول کی قیمت تقریباً 96 روپئے فی لیٹر سے بڑھ کر 102 روپئےل فی لیٹر ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کر کے صارفین پر بوجھ کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار یہ فیصلہ کیا تو حکومت نے پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 10 روپئے اور فی لیٹر ڈیزل پر 10 روپئے کی کمی کی تھی ۔ جس سے حکومت کو تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا تھا ۔
ڈھائی ماہ پہلے خریدا گیا اسٹاک؟
مرکزی وزیرنے کہا کہ اس وقت جو اسٹاک پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہے وہ دو سے ڈھائی ماہ قبل خریدا گیا تھا، جب خام تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں۔ جہاں تک اس سوال کی بات ہے کہ قیمتیں مزید کب کم ہوسکتی ہیں، تواگر قیمتیں موجودہ سطح پر رہتی ہیں تو مستقبل میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ میرے لیے اس معاملے پر قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
قیمتوں میں کمی کےلئے مزید انتظار!
واضح رہےکہ عالمی مارکٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کےباعث کمرشل گیس کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ لیکن مرکزی وزیر کےبیان سے ظاہر ہوتا ہےکہ دو مہینوں بعد پٹرول ، ڈیزل اور گھریلو گیس کی قیمتوں میں کمی کی امید کی جا سکتی ہے۔ یعنی صارفین کو قیمتوں میں کمی کےلئےمزید دو مہینوں کا انتظار کر نا ہوگا!۔