• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسرائیل نسل کشی،جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب؟ رپورٹ

اسرائیل نسل کشی،جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب؟ رپورٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 02, 2026 IST

اسرائیل نسل کشی،جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب؟ رپورٹ
اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے اس ماہ ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ 7 اکتوبر2023 سے اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران اسرائیل نے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

رپورٹ کے بعد شدید ردِعمل

رپورٹ سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اسکائی نیوز کی سینئر صحافی الیکس کرافورڈ نے جب سوشل میڈیا پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ذکر کیا تو بعض اسرائیلی صحافیوں اور مبصرین نے ان پر سخت تنقید کی۔اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے "پروپیگنڈا" قرار دیا۔

رپورٹ پر فراڈ کا الزام

برطانوی جریدے دی اسپیکٹیٹر  (the Spectator),میں لکھنے والے مبصر جوناتھن ساکرڈوٹی (Jonathan Sacerdoti)نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ قابلِ اعتماد نہیں اور اس میں اسرائیل پر بغیر ثبوت کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹ میں مضبوط شواہد موجود نہیں تو اسے واپس لیا جانا چاہیے اور اسے تیار کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ نے کیا کہا؟

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر اسرائیلی حکام اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غزہ میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ نتیجہ پہلے سے موجود شواہد سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

10 روزہ بچے کی ہلاکت کا واقعہ

رپورٹ میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق 12 اپریل 2024 کو نصیرات کیمپ (Nuseirat camp)میں ایک 10 روزہ بچے کو اس وقت گولی لگی جب اس کی والدہ خیمے کے اندر اسے دودھ پلا رہی تھیں۔رپورٹ کے مطابق گولی بچے کے سر میں لگی اور اس کے سر کے پچھلے حصے سے نکل گئی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ پر اعتراضات

جوناتھن ساکرڈوٹی نے اس واقعے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حملہ کواڈ کاپٹر(quadcopter)ڈرون نے کیا تھا تو اس کے لیے ڈرون کو خیمے کے اندر موجود بچے کو دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رپورٹ میں اس دعوے کے حق میں کافی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کا مؤقف

رپورٹ میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ گولی خیمے کے باہر سے چلائی گئی تھی۔اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے صرف ایک تصویر نہیں بلکہ متعدد تصاویر کا جائزہ لیا۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اس نے متاثرین اور عینی شاہدین کے انٹرویوز کیے اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیں۔

فرانزک ماہرین کی مدد بھی لی گئی

اقوام متحدہ کے کمیشن نے بتایا کہ اس تحقیق کے دوران دو آزاد فرانزک ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ان ماہرین نے سی ٹی اسکین، میڈیکل رپورٹس، تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لیا، تاکہ گولی لگنے سے متعلق شواہد کا سائنسی تجزیہ کیا جا سکے۔