امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کوپاناما کینال (Panama Canal) پرکنٹرول کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ان کا سخت مؤقف ہے کہ پاناما نے نہر کی ٹرانزٹ فیس میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، اور امریکہ کسی بھی صورت میں چین کو اس انتہائی اسٹریٹجک بحری گزرگاہ پر اثر و رسوخ حاصل کرنے یا اسے اپنے قبضے میں لینے نہیں دے گا۔ٹرمپ نے یہ بات میڈورا میں تھیوڈور روزویلٹ صدارتی لائبریری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چین کو پاناما کینال پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
پاناما نے جہازوں کی فیس کئی گنا بڑھا دی: ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نےپاناما کینال کا کنٹرول دے دیا، جس کے بعدپناما نے سب سے پہلے بحری جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس چار گنا بڑھا دی۔ بعد میں اس میں مزید اضافہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود جہازوں کی آمد و رفت میں کوئی کمی نہیں آئی اور پناما نے اس سے کئی سالوں تک بڑی آمدنی حاصل کی۔
چین پاناما کینال پرقبضہ کرنے کی کوشش!
انہوں نے مزید کہا کہ اب چین پاناما کینال پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن امریکہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ٹرمپ کے یہ بیانات 1977 کے ٹوریخوس-کارٹر معاہدے (Torrijos-Carter Treaties) کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے تحت پناما کینال کا کنٹرول مرحلہ وار پناما کے حوالے کیا گیا تھا، اور 1999 میں پاناما نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
پاناما کینال امریکہ کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاناما کینال امریکہ کے لیے عالمی تجارت، بحری حمل و نقل اور اقتصادی شراکت داری کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔امریکہ کے تقریباً 40 فیصد کنٹینر کارگو کی آمد و رفت اسی نہر سے ہوتی ہے۔اس کے ذریعے ہر سال تقریباً 270 ارب ڈالر مالیت کا سامان منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ نہر سمندری سفر کا وقت کم کرتی ہے، جس سے ایندھن اورحمل و نقل کے اخراجات میں بھی بڑی بچت ہوتی ہے۔