پولیس نے تلنگانہ رکشانہ سینا (ٹی آرایس) کی صدر کلواکنٹلا کویتا کوجمعرات کو حیدرآباد کے قریب بودوپل میں تلنگانہ کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے زمین کے مطالبہ پر احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا۔ اس موقع پرعلاقہ میں کچھ دیر کےلئے کشیدگی دیکھی گئی۔
پولیس نے ٹی آرایس کی طرف سے بلائے گئے احتجاج کو ناکام بنایا۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ کانگریس حکومت تلنگانہ کے شہیدوں کےاہل خانہ کو اراضی الاٹ کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرے جنہوں نے علحدہ ریاست تحریک کے دوران حصہ لیا اور اپنی جانیں قربان کیں۔ٹی آر ایس کے سینکڑوں کارکنان احتجاج میں حصہ لینے کے لیے صبح سے ہی ضلع میڑچل ملکاجگیری کے بودوپل پہنچ گئے تھے۔ پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور ٹی آرایس کیڈرس کی جانب سے لگائے گئے خیموں کو ہٹادیا۔ پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب کویتا اپنے حامیوں کے ساتھ میڈی پلی پہنچی اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) کے لے آؤٹ میں ایک پوجا میں حصہ لیا۔وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے خواتین سمیت مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے مزاحمت کی تو فریقین کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی۔ پولیس اہلکاروں نے کویتا کو جسمانی طور پر پولیس گاڑی تک پہنچایا۔ بعد میں اسے بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔
ٹی آر ایس لیڈر نے میڈیا سے کہا کہ کانگریس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں صرف اس مطالبہ پر گرفتار کیا گیا تھا کہ کانگریس حکومت اس وعدے کو عملی جامہ پہنائے کہ تلنگانہ کے شہداء کے ہر خاندان کو 250 مربع گز کی مکانات الاٹ کی جائیں گی۔ ٹی آر ایس قائدین نے پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور مبینہ طور پر سختی کی مذمت کی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس نے شہیدوں کے والدین یا شریک حیات کے لیے ماہانہ 25,000 روپے کی اعزازی پنشن اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے وعدے کیے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بھول گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے اس پر سوال اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک حکومت شہداء کے لواحقین کو 250 مربع گز زمین نہیں دے دیتی، وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ وہ کانگریس حکومت کی غداری کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتاریاں انہیں آواز اٹھانے سے باز نہیں آئیں گی۔