سالانہ امرناتھ یاترا جمعہ کو شروع ہوئی۔ ہزاروں یاتریوں نے جموں و کشمیر کے امرناتھ گپھا کے درشن کے لیے اپنا سفر شروع کیا۔ یاتری جنوبی کشمیر کے پہلگام کے نُنوان( Nunwan)اور وسطی کشمیر کے سونمرگ کے بالتل بیس کیمپوں سے 3,880 میٹر بلند پاوتر گپھا کی جانب روانہ ہوئے، جہاں قدرتی طور پر برف کا شیو لنگم بنتا ہے۔امرناتھ یاترا کے آغاز پر وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو عقیدت مندوں کے نام ایک خط جاری کیا اور ان کے لیے محفوظ سفرکی نیک تمنائیں ظاہرکی۔
وزیر اعظم مودی نے کیا کہا؟
اپنے پیغام میں وزیر اعظم مودی نے کہا: بابا برفانی کے درشن سے جڑی امرناتھ یاترا ہماری روحانی روایت اور ثقافتی یکجہتی کی ایک اہم علامت ہے۔ میری پراتھنا ہے کہ تمام شیو بھکتوں کا یہ سفر ہر لحاظ سے محفوظ اور بابرکت رہے۔
یاتریوں کا جوش و خروش
صبح سویرے مرد، خواتین اور سادھوؤں پر مشتمل یاتریوں کے قافلے ننوان اور بالتل بیس کیمپوں سے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر "بم بم بھولے"، "ہر ہرمہادیو" اور "جئے بابا برفانی" کے نعروں سے پورا ماحول گونج اٹھا۔
بیس کیمپوں پر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور(SSPs) نے یاتریوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔جموں سے پہلا قافلہ پہلے ہی روانہ ہو چکاتھا جمعرات کو جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے 4,809 سے زائد یاتریوں کے پہلے قافلے کو روانہ کیا تھا۔
وادی کشمیر پہنچتے ہی یاتریوں کا پرجوش استقبال
وادی کشمیر پہنچنے پر یاتریوں کا انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ تمام یاتری پاوتر گپھا میں حاضری دے کر برف کے قدرتی شیو لنگم کے درشن کریں گے۔
سخت حفاظتی انتظامات
یاترا کے پرامن انعقاد کے لیے پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔یہ 57 روزہ یاترا 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
دوسرے قافلے کی روانگی
جمعہ کو بھگوتی نگر بیس کیمپ سے 3,865 عقیدت مند 201 گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے۔1,735 عقیدت مند 115 گاڑیوں میں بالتل بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئے۔
2,130 عقیدت مند 86 گاڑیوں میں پہلگام بالتل بیس کیمپ کی جانب روانہ ہوئے۔جمعرات اور جمعہ کو ملا کر اب تک 8,687 عقیدت مند جموں سے کشمیر روانہ ہو چکے ہیں۔
بیس کیمپ میں عقیدت کا ماحول
بھگوتی نگر بیس کیمپ میں یاتریوں نے "بم بم بھولے"، "ہر ہر مہادیو" اور "جئے بابا برفانی" کے نعرے لگائے۔ کئی یاتریوں نے یاترا کے لیے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
حکام نے جموں-سری نگر قومی شاہراہ، ٹرانزٹ کیمپوں اور بھگوتی نگر بیس کیمپ میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے ہیں تاکہ یاتریوں کا سفر محفوظ اور بلا رکاوٹ جاری رہے۔