حکومت نے بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے مواد پر میٹا کے خلاف کاروائی کی ہے۔ آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے بھارت میں انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے قابل اعتراض اشتہارات کے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی (MeitY) کے حکام کو میٹا سے جواب طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزارت اس پورے معاملے پر میٹا سے وضاحت طلب کرے گی کہ انسٹاگرام پر ایسے اشتہارات کیسے دکھائے گئے اور انہیں روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
اشتہارات کے حوالے سے وضاحت طلب
میڈیا میں ایسی خبریں آئی ہیں کہ انسٹاگرام پر ظاہر ہونے والے کچھ ادا شدہ اشتہارات ٹیلی گرام جیسے دوسرے پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مواد کے نیٹ ورکس کی طرف موڑ رہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میٹا سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو فروغ دینے والے انسٹاگرام اشتہارات کے حوالے سے وضاحت طلب کریں۔
میٹا کی سرگرمیوں پرحکومت کی گہری نظر
یہ دوسرا موقع ہے جب مرکزی حکومت نے حالیہ دنوں میں میٹا کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی ہے۔ مرکز نے کچھ دن پہلے واٹس ایپ کے مجوزہ 'یوزر نیم' فیچر پر بھی اعتراض کیا تھا۔ حکومت پہلے ہی میٹا کو نوٹس بھیج چکی ہے، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ فیچر آن لائن فراڈ، ڈیجیٹل گرفتاری کے گھوٹالوں اور شناخت کی چوری میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
واٹس ایپ کے 'یوزر نیم فیچر' کے حوالے سے نوٹس
اس سے قبل بدھ کو حکومت نے میٹا کو بھارت میں واٹس ایپ کے متنازعہ ’ یوزرنیم فیچر‘کی خصوصیت کے حوالے سے نوٹس جاری کیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ جب تک اس معاملے پر بات چیت مکمل نہیں ہوجاتی تب تک اس ’فیچر‘ کو پیش نہیں کیا جائے۔ حکومت نے میٹا کو ’ یوزرنیم فیچر‘کے بارے میں تین دن کے اندر تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے واٹس ایپ پر ’یوزر نیم فیچر‘ متعارف کرانے کے حوالے سے میٹا کو نوٹس جاری کیا ہے۔ میٹا سے پوچھا گیا ہے کہ واٹس ایپ کی تجویز کردہ ’فیوچر‘ کے حوالے سے انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ اور قواعد کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
بھارت میں واٹس ایپ کے50 کروڑ صارفین
بھارت میں واٹس ایپ کے تقریباً 50 کروڑ صارفین ہیں، جو اس پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم مارکٹ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹا انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک اس معاملے پر بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی اس فیچر کو متعارف نہ کروایا جائے۔