• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • !تلنگانہ ریاست کو زیادہ مقروض کس نے کیا؟ ریاست کی مالی حالت موضوع بحث

!تلنگانہ ریاست کو زیادہ مقروض کس نے کیا؟ ریاست کی مالی حالت موضوع بحث

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 03, 2026 IST

!تلنگانہ ریاست کو زیادہ مقروض کس نے کیا؟ ریاست کی مالی حالت موضوع بحث
تلنگانہ کے قرضوں کو لے کر حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ اس بار تلنگانہ کے ڈپٹی سی ایم بھٹی وکرامارکا نے بی آر ایس پرکرپشن کے سخت الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں ریاست کو بہت زیادہ مقروض کر دیا۔ انہوں نےکے سی آر اور ہریش راؤ قرضوں کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ۔

 بی آر ایس پر جھوٹ پھیلانے کا الزام 

بھٹی  نے سابق وزیر ہریش راؤ پر  تلنگانہ کی مالی صورتحال کے بارے میں جھوٹ پھیلا نے کا الزام لگایا ۔ سیکرٹریٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے بی آر ایس حکومت کی طرف سے لیے گئے قرضوں اور اس کے مالیاتی امور کے بارے میں تفصیلات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ پر اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے جوابی حملہ کرنے پر تنقید کی۔

 کےسی آر بھاری قرضوں پر عوام کو دیں جواب 

بھٹی نے کہا کہ مجموعی طور پر بی آر ایس  دور حکومت  میں  8.21 لاکھ کروڑ کے قرضے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں غیر ادا شدہ واجبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے الزام لگایاکہ  کےسی آر   زیر قیادت  بی آر ایس  کی  دس سالہ حکومت جھوٹ پر مبنی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق سی ایم کے سی آر ان بھاری قرضوں پر عوام کو جواب دیں۔

اصل رقم اور سود ملا کر 2 لاکھ 8 ہزار 61 کروڑ روپے ادا کئے

بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ سابق حکومت کے لیے گئے قرضوں کی وجہ سے گزشتہ ڈھائی برسوں میں اصل رقم اور سود ملا کر 2 لاکھ 8 ہزار 61 کروڑ روپے ادا کرنے پڑے۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو بند نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ زیادہ سود والے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ (دوبارہ تنظیم) کے باعث سالانہ سود کا بوجھ 34 ہزار کروڑ روپے سے کم ہو کر 11 ہزار کروڑ روپے رہ گیا ہے۔

 سنگارینی کو بحران میں دھکیل دیا

بھٹی نے الزام لگایا کہ بی آر ایس حکومت نے دس سالوں میں سنگارینی کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے تنقید کی کہ نئے کول بلاکس نہیں لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ چوری کے الزامات پر سنگارینی کی ویجیلنس انکوائری کے احکامات پہلے ہی دے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے کول بلاکس کے لیے مرکز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

 ہریش راؤ نے لگایا حکومت پر الزام 

 بی آر ایس لیڈر اور سابق وزیر ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر ریاستی قرضوں کے معاملے میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔سنگاریڈی میں ہریش راؤ نے کہا کہ وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے انہیں ایک خط لکھ کر بتایا تھا کہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد مجموعی طور پر 1 لاکھ 77 ہزار 58 کروڑ روپے کا قرض لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے چار ماہ قبل اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ کانگریس حکومت نے 3 لاکھ 45 ہزار 294 کروڑ روپے کا قرض لیا ہے۔

کون دےگا استعفیٰ؟

ہریش راؤ نے کہا کہ اگر چار ماہ پہلے ہی اسمبلی میں ریونت ریڈی نے یہ اعداد و شمار پیش کیے تھے تو گزشتہ چار ماہ کے مزید قرضے شامل کیے جائیں تو یہ رقم 4 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جوپلی کرشنا راؤ ایک بات کہہ رہے ہیں اور ریونت ریڈی دوسری بات، تو اب استعفیٰ کون دے گا؟