آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کو کھلی پیشکش دی ہے۔اویسی نے کہا کہ اگر مقصد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا ہے تو اب بات چیت کا وقت ہے، بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اویسی نے کیا کہا؟
مراد آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا: مجلس نہیں چاہتی کہ بی جے پی اتر پردیش میں دوبارہ حکومت بنائے۔ میں ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہوں، اتحاد کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ آج بات کرنے کا وقت ہے، انتخابات کے بعد رونا مت۔ انہوں نے کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی کو لگتا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کے الیکشن لڑنے سے ان کا نقصان ہوتا ہے تو وہ مل کر الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ہماری لڑائی کسی مذہب سے نہیں
اسد الدین اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کی لڑائی کبھی بھی کسی مذہب کے خلاف نہیں رہی۔ انہوں نے کہا: ہماری لڑائی انصاف کے لیے ہے۔ ہم برابری چاہتے ہیں۔ اگر اکھلیش یادو کرسی پر بیٹھیں گے تو اویسی بھی اسی کرسی کے سامنے بیٹھ کر اپنے حقوق اور انصاف کی بات کریں گے۔
بی جے پی کا ردعمل
اویسی کی اس پیشکش پر بی جے پی نے سخت ردعمل دیا۔ بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے اس اتحاد کی تجویز کو "ووٹ بینک کی سیاست کا اشتراک" قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اکھلیش یادو اور اویسی پہلے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تھے، لیکن اب دونوں مل کر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو "ایک ہی سکے کے دو رخ" بھی قرار دیا۔
اتر پردیش کی سیاست میں اہمیت
سماج وادی پارٹی اس وقت اتر پردیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، جبکہ ریاست میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت قائم ہے۔ اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات 2027 میں ہونے والے ہیں، اسی لیے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں اور ممکنہ اتحاد ابھی سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔