• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • آسام میں سیلاب سے مزید 7 اموات، ہلاکتوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئیں, 3.32 لاکھ افراد متاثر

آسام میں سیلاب سے مزید 7 اموات، ہلاکتوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئیں, 3.32 لاکھ افراد متاثر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

آسام میں سیلاب سے مزید 7 اموات، ہلاکتوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئیں, 3.32 لاکھ افراد متاثر
 آسام میں سیلاب کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے، لیکن بدھ کے روز مزید 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد اس سال سیلاب سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 75 ہو گئی ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ASDMA) کے مطابق، بدھ کو ہونے والی تمام 7 ہلاکتیں شیواساگر ضلع کے نذیرا سرکل میں پیش آئیں۔
 

کتنے اضلاع اور لوگ متاثر ہیں؟

ریاست کے 7 اضلاع اب بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان میں: شیواساگر، چرائیڈیو، گولاگھاٹ، جورہاٹ، ناگاؤں، سونیت پور،کامروپ میٹروپولیٹن- ان اضلاع کے 21 حلقے اور 622 گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس وقت ریاست میں 3 لاکھ 32 ہزار 639 افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔
 

سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

سب سے زیادہ متاثرہ ضلع چرائیڈیو ہے، جہاں 1 لاکھ 42 ہزار 756 افراد متاثر ہوئے ہیں۔اس کے بعد: شیواساگر: 97 ہزار 74 متاثرین، جورہاٹ: 57 ہزار 371 متاثرین
 

متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی

پیر کے روز ریاست کے 6 اضلاع میں تقریباً 4 لاکھ 45 ہزار افراد سیلاب سے متاثر تھے، جبکہ اب متاثرہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3.32 لاکھ رہ گئی ہے۔
 

ریلیف کیمپ اور امدادی مراکز

متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ریاست میں 81 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 32 ہزار 477 بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 34 امدادی تقسیم مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔
 

امدادی اور بچاؤ کی کاروائیاں جاری

ریاست میں فوج، فضائیہ، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور سول کارکن مسلسل امدادی اور بچاؤ کی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
 

دریاؤں اور فصلوں کی صورتحال

اے ایس ڈی ایم اے کے مطابق، گولاگھاٹ ضلع کے نومالی گڑھ میں دھنسیری ندی خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہی ہے۔ سیلاب کے باعث 45 ہزار 341.98 ہیکٹر زرعی رقبہ زیرِ آب آ چکا ہے۔
 

مکانات اور دیگر عمارتوں کو نقصان

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مکانات، مویشیوں کے شیڈ، اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ آسام حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال سیلاب میں جاں بحق یا لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو امدادی رقم دینے کا عمل آسان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ مرنے والوں کے خاندانوں کے لیے 5 لاکھ روپے اضافی معاوضے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
 

لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لیے بھی امداد

وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ پہلے سرکاری امداد حاصل کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ ضروری ہوتی تھی، لیکن اب اس اصول میں نرمی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر سیلاب میں لاپتہ شخص کی لاش ایک ماہ کے اندر نہ ملے تو اس کے اہل خانہ کو کل 9 لاکھ روپے کی اضافی مالی امداد دی جائے گی، جبکہ متعلقہ سرکل آفیسر ضروری سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
 

شدید متاثرہ خاندانوں کے لیے عبوری امداد

وزیراعلیٰ نے کہا کہ شیواساگر، چرائیڈیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ کے شدید متاثرہ خاندانوں کو فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے 15 ہزار روپے کی عبوری مالی امداد دی جائے گی۔
 

ریلیف فنڈ اور نقصان کا تخمینہ

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ عبوری امداد اور طلبہ کے لیے مالی مدد چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے دی جائے گی، جس میں حالیہ سیلاب کے بعد سے 26 کروڑ روپے سے زائد کے عطیات جمع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 3 اگست سے مکانات، مویشیوں، ماہی گیری اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد مستحق خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔