• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی فوجیوں پر ایران کا حملہ، امریکہ نے کیا میزائل روکنے کا دعوی

امریکی فوجیوں پر ایران کا حملہ، امریکہ نے کیا میزائل روکنے کا دعوی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

امریکی فوجیوں پر ایران کا حملہ، امریکہ نے کیا میزائل روکنے کا دعوی
ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ ایک "اچانک حملے کی کوشش" تھی، امریکی فضائی دفاعی نظام نے تمام میزائل راستے ہی میں تباہ کر دیے۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ گزشتہ جمعہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کاروائی روک کر سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے بعد، ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود کسی امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔
 

حملہ کب ہوا؟

یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہوئے، جس میں ایران کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی تھی۔
 

CENTCOM کا بیان

CENTCOM نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بتایا کہ شام 5:45 بجے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے ایران سے متعدد بیلسٹک میزائل داغے، لیکن امریکی فضائی دفاعی نظام نے تمام میزائل کامیابی سے روک لیے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کسی میزائل کو ہدف تک پہنچنے نہیں دیا گیا اور امریکی افواج مکمل طور پر چوکس اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
 

عراق میں امریکی اور سعودی کاروائیاں

دوسری جانب امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کیے۔ CENTCOM کے مطابق ان گروپوں نے حالیہ دنوں میں امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیےکئی ڈرون حملے کیے تھے امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مشرقی عراق میں ان گروپوں کے لاجسٹکس مراکز اور ہتھیاروں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
 

امریکی فوج کا دعویٰ

CENTCOM نے کہا کہ فبروری سے اپریل 2026 کے درمیان عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ نے امریکی شہریوں اور فوجی تنصیبات پر 600 سے زیادہ حملوں کی کوشش کی، امریکی افواج کے خلاف کیے گئے یہ حملے اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ بیان میں ایران کی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اور اس سے منسلک گروپوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ ایسے حملے بند کریں، ورنہ انہیں امریکی فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 

ٹرمپ کا ایران کو انتباہ

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا تو امریکہ دوبارہ فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔میڈیاکو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکہ "کام مکمل" کرنے کے لیے دوبارہ کاروائی کرے گا۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر، جن میں پل اور بجلی کے مراکز شامل ہیں، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے بیشتر پل ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تباہ کیے جا سکتے ہیں۔