مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آ گئی ہے، جہاں بی جے پی کے رہنماؤں نے ممتا بنرجی اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بہار بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) غیر قانونی دراندازوں، بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کا براہ راست اثر ریاست کے وسائل اور مقامی شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراندازی کے باعث مغربی بنگال میں وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سراوگی نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کے باعث آبادیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں، جس سے سماجی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
اس موقع پر سراوگی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے حالیہ بیان کی بھی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ نے ٹی ایم سی حکومت کے کردار کے حوالے سے "حقیقت بیان کی ہے" اور الزام لگایا کہ ریاستی مشینری دراندازوں کو بچانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے انتخابات میں عوام اس پالیسی کا جواب دیں گے اور بی جے پی مغربی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔
دوسری جانب، بہار حکومت کے وزیر دلیپ کمار جیسوال نے سرحدی سلامتی کے معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ طویل سرحد کے باعث دراندازی کو روکنے کے لیے باڑ لگانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جغرافیائی رکاوٹیں جیسے دریا اور پہاڑی علاقے اس عمل کو مشکل بناتے ہیں، تاہم قومی سلامتی کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
ادھر امت شاہ نے ہفتہ کو بی جے پی کی جانب سے 35 صفحات پر مشتمل ایک وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں ٹی ایم سی کے 15 سالہ دور حکومت پر شدید تنقید کی گئی۔ اس رپورٹ میں دراندازی، بدعنوانی، معاشی زوال، امن و امان کی صورتحال اور سماجی ہم آہنگی جیسے اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق، مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کے درمیان 2,216 کلومیٹر طویل سرحد میں سے تقریباً 569 کلومیٹر حصہ اب بھی بغیر باڑ کے ہے، جس کی ایک بڑی وجہ زمین کے حصول میں تاخیر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ دراندازوں کو جعلی شناختی کارڈ فراہم کرنے کے لیے منظم نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔
جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، دراندازی اور سرحدی سلامتی کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ بی جے پی اسے ایک اہم انتخابی مدعا بنا رہی ہے، جبکہ ترنمول کانگریس ان الزامات کو مسلسل مسترد کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔