Sunday, August 23, 2026 | 08 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • نتن نبین کی نئی ٹیم کا پہلا اجلاس، آنے والے انتخابات پر نظر

نتن نبین کی نئی ٹیم کا پہلا اجلاس، آنے والے انتخابات پر نظر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 22, 2026 IST

نتن نبین کی نئی ٹیم کا پہلا اجلاس، آنے والے انتخابات پر نظر
 بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہفتہ کے روز نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نئے مقرر کیے گئے قومی عہدیداروں کے ساتھ پہلی اہم میٹنگ کی۔ اس ملاقات میں پارٹی کو مقامی سطح پر مزید مضبوط بنانے، نوجوانوں تک پہنچ بڑھانے اور آنے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ میٹنگ میں پارٹی کی تنظیمی حکمت عملی پر خاص توجہ دی گئی۔ عہدیداروں نے اس بات پر بھی غور کیا کہ پارٹی کی پالیسیوں اور حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو زیادہ مؤثر انداز میں عام لوگوں تک کیسے پہنچایا جائے۔

 آئندہ اسمبلی انتخابات بھی اہم موضوع

بی جے پی کے نئے عہدیداروں کی میٹنگ میں اگلے سال کے شروع میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی اہم موضوع رہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، جن کے لیے پارٹی نے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے۔ پارٹی کی جانب سے مقامی سطح پر تنظیم کو مضبوط بنانے اور ووٹروں سے براہِ راست رابطہ بڑھانے کی حکمت عملی پر بھی بات ہوئی۔ خاص طور پر نوجوان ووٹروں تک پہنچنے اور انہیں پارٹی سے جوڑنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

 نتن نبین کی مزید اہم ملاقاتیں متوقع

نتن نبین، جو بی جے پی کے اب تک کے سب سے کم عمر قومی صدر ہیں، آنے والے دنوں میں پارٹی کے مختلف اہم رہنماؤں کے ساتھ مزید ملاقاتیں کریں گے۔ ان میں بی جے پی کی مختلف ریاستی تنظیموں کے صدور،ریاستی انچارج اور بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہوں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پارٹی کی تنظیمی کارکردگی کا جائزہ لینا اور آنے والے انتخابات کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔

 65 عہدیداروں پر مشتمل نئی ٹیم

یہ میٹنگ بی جے پی کی جانب سے نتن نبین کی نئی ٹیم کے اعلان کے چند دن بعد ہوئی ہے۔ پارٹی نے مجموعی طور پر 65 قومی عہدیداروں کی نئی ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ نئی ٹیم میں 13 قومی نائب صدور شامل ہیں۔ ان میں راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا، اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت اور رام مادھو کے نام بھی شامل ہیں۔ بی جے پی نے بی ایل سنتوش کو قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) برقرار رکھا ہے، جبکہ شیو پرکاش اور سودان سنگھ کو قومی جوائنٹ جنرل سکریٹری (تنظیم) کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

 کئی بڑے رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں

ونود تاوڑے، سنیل بنسل، بپل کمار دیب، سمرتی ایرانی، ستیش پونیا، گجیندر پٹیل، ہریش دویدی اور سنجے بھاٹیہ کو قومی جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل کو پارٹی کا قومی مالی سربراہ بنایا گیا ہے۔ پارٹی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ امیت مالویہ کی جگہ دیپک مہاسکی کو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی طرح بی جے پی یووا مورچہ میں بھی تبدیلی ہوئی ہے۔ لوک سبھا رکن تیجسوی سوریا کی جگہ ہیمانگ جوشی کو یووا مورچہ کا نیا صدر مقرر کیا گیا ہے۔

 وزیر اعظم مودی نے نئی ٹیم کو مبارکباد دی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بی جے پی کے نئے قومی عہدیداروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیم میں تنظیمی تجربہ، توانائی اور مقامی سطح سے جڑے رہنماؤں کا امتزاج ہے۔ مودی نے امید ظاہر کی کہ نئے عہدیدار پارٹی کو مزید مضبوط بنانے اور عوامی خدمت پر توجہ دینے کے لیے بھرپور کام کریں گے۔

 10 سال بعد بڑی تنظیمی تبدیلی

بی جے پی میں یہ بڑی تنظیمی تبدیلی تقریباً 10 سال بعد ہوئی ہے۔ اس سے قبل 2015 میں امیت شاہ کے پارٹی صدر رہتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیلی کی گئی تھی۔ نئی ٹیم کے اعلان کے بعد مرکزی کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں بھی سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال بی جے پی کی نئی قیادت کی توجہ پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے، نوجوانوں تک رسائی بڑھانے اور آنے والے اسمبلی انتخابات کے لیے تیاری تیز کرنے پر ہے۔

2027 کے اتر پردیش انتخابات پر خاص توجہ

تازہ رپورٹس میں اتر پردیش کے 2027 اسمبلی انتخابات کو بی جے پی کی حکمت عملی کا ایک بڑا مرکز بتایا گیا ہے۔ نتن نبین اس سے پہلے اتر پردیش کے تقریباً 20 بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں تاکہ ریاست کی سیاسی صورتحال، ذات پات کے حساب کتاب اور پارٹی کارکنوں کے حوصلے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

2027 کے ساتھ 2029 لوک سبھا انتخابات کی بھی تیاری

 بعض رپورٹس کے مطابق نئی ٹیم کی تشکیل صرف اگلے سال کے اسمبلی انتخابات کے لیے نہیں بلکہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو بھی ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے۔ اسے پارٹی کی طویل مدتی تنظیمی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی ٹیم میں 51 نئے چہرے

65 رکنی نئی ٹیم میں 51 نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی نے تجربہ کار رہنماؤں کے ساتھ بڑی تعداد میں نئے لوگوں کو بھی ذمہ داریاں دی ہیں۔

میٹنگ صرف انتخابات تک محدود نہیں تھی

نئی ٹیم کے ارکان کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے اور ملک بھر میں پارٹی کے مختلف پروگراموں کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔