Saturday, August 22, 2026 | 07 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • اننت ناگ میں این آئی اے کے چھاپے۔ متعدد ڈیجیٹل آلات اور دیگر اشیا کئے ضبط

اننت ناگ میں این آئی اے کے چھاپے۔ متعدد ڈیجیٹل آلات اور دیگر اشیا کئے ضبط

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 22, 2026 IST

اننت ناگ میں این آئی اے کے چھاپے۔ متعدد ڈیجیٹل آلات اور دیگر اشیا کئے ضبط
 نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سی آر پی ایف اہلکاروں اور جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں دو مقامات پر تلاشی کاروائی انجام دی۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بجبہاڑہ میں واقع SICOP دفتر اور ڈورو کے کریری گاؤں میں ایک رہائشی مکان میں کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ چھاپہ ایک جاری تحقیقات کے سلسلے میں مارا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران موبائل فونز سمیت متعدد ڈیجیٹل آلات ضبط کئے  گئے ہیں۔
 
ذرائع کے مطابق دونوں مقامات پر تلاشی اور دیگر قانونی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کاروائی کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا کوئی قابل اعتراض مواد یا دیگر اشیاء قبضے میں لی گئی ہیں۔ دونوں چھاپوں کے بارے میں مزید تفصیلات اور این آئی اے کی جانب سے سرکاری بیان کا انتظار ہے۔
 
ایجنسی کی طرف سے ہفتہ کی کاروائی جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے میں کمیونٹی یکجہتی کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔سنہا راجوری ضلع کے سندر بنی علاقے میں دھرپور میں 'جن سانچے جن بھاگیداری' پہل کے تحت امرتیشور سروور کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد بول رہے تھے۔اپنے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے شری امرتیشور شیو مندر میں پوجا کی۔
 
ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں معاشی ترقی اور روحانی نشاۃ ثانیہ کے آغاز کے علاوہ دہشت گردی، منشیات کے استعمال اور بدعنوانی کو ختم کرنے میں کمیونٹی یکجہتی کا ایک اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا"ہندوستان ایک عظیم روحانی احیاء سے گزر رہا ہے۔ یہ ثقافتی لہر جموں کشمیر بھر میں محسوس کی جا رہی ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور ہمارے کمیونٹی بندھن کو مضبوط کرتی ہے،" 
 
لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم سے چوکنا رہیں، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دیں اور دہشت گردی کے ہمدردوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ کریں۔انہوں نے کہا، "صرف سیکورٹی فورسز دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتیں۔ اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے پورے معاشرے کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر نارکو ٹیرر نیٹ ورکس کے غیر قانونی مالی اور لاجسٹک جالوں کو ختم کرنے کے لیے متحدہ سماجی کوششوں کی ضرورت ہے۔"
 
سنہا نے کہا کہ فوج، سیکورٹی فورسز، جموں و کشمیر پولیس، مقامی انتظامیہ اور رہائشیوں پر مشتمل ایک مشترکہ سیکورٹی اور سماجی کوشش نے دہشت گردی کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور خطے کے سیکورٹی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔