لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) راہل گاندھی کی حالیہ تقریر کے بعد، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکنِ پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے ان کی رکنیت ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نوٹس دیا ہے۔ جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے دوبے نے واضح کیا کہ یہ کوئی 'تحریکِ استحقاق' (Privilege Motion) نہیں ہے، بلکہ انہوں نے ایک 'ٹھوس تحریک' (Substantive Motion) پیش کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ کی جائے اور ان کے انتخاب لڑنے پر پابندی لگائی جائے۔
نشیکانت دوبے کے الزامات کیا ہیں؟
نیوز بائٹس نے نیوز 18 کے حوالے سے لکھا : نشیکانت دوبے نے راہل گاندھی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی مبینہ طور پر سوروس فاؤنڈیشن، فورڈ فاؤنڈیشن اور USAID جیسی تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں۔دوبے نے راہل کے تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویتنام اور امریکہ جیسے ممالک کے دوروں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں بھارت مخالف قوتوں سے متعلق قرار دیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کی رکنیت فوری طور پر ختم کی جائے اور انہیں تاحیات الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔
یہ نوٹس دیگر تحریکوں سے کتنا مختلف ہے؟
نشیکانت دوبے نے جو نوٹس دیا ہے اسے قانونی زبان میں 'سبسٹین ٹیو موشن' (Substantive Motion) کہا جاتا ہے۔ یہ تحریک 'عدم اعتماد' یا 'مواخذے' (Impeachment) کی طرح ہوتی ہے، جو کسی آئینی یا سرکاری عہدے پر بیٹھے شخص کے خلاف لائی جاتی ہے۔یہ ایوان کے رکن کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک باضابطہ تجویز ہے، جس میں کسی ایسے اہم معاملے پر بحث کی جاتی ہے جس پر فیصلہ لینا ضروری ہو۔اب اس تحریک کی قبولیت پر ایوان میں بحث ہوگی۔ نوٹس دینے والے رکن (نشیکانت دوبے) کو اپنے تمام الزامات کے ثبوت فراہم کرنے ہوں گے اور انہیں سچ ثابت کرنا ہوگا۔