Thursday, February 12, 2026 | 24, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • لوک سبھا اسپیکراوم برلا کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟

لوک سبھا اسپیکراوم برلا کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 12, 2026 IST

لوک سبھا اسپیکراوم برلا  کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے؟
اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پیش کرنے کا نوٹس جمع کرا دیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر نے ایوان کی کاروائی چلاتے ہوئے "واضح طور پر جانبدارانہ رویہ" اختیار کیا اور اپنے آئینی عہدے کا "غلط استعمال" کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران انہیں بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا اور حکومتی اراکین کو ترجیح دی گئی۔

  لوک سبھا اسپیکرکو ہٹانے کا آئینی طریقہ کار کیا ہے؟

بھارتی آئین کے آرٹیکل 94(سی) کے تحت لوک سبھا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایوان میں ایک قرارداد منظور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اس قرارداد کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت کافی نہیں، بلکہ لوک سبھا کے تمام موجودہ اراکین کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔یعنی قرارداد تبھی کامیاب ہوگی جب ایوان کے کل موجودہ اراکین میں سے نصف سے زائد اس کے حق میں ووٹ دیں۔

 14 دن کا نوٹس لازمی

اسپیکر کو ہٹانے کی قرارداد پیش کرنے سے پہلے کم از کم 14 دن کا تحریری نوٹس دینا آئینی طور پر لازمی ہے۔ اس کے بعد ہی قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔اگر قرارداد منظور ہو جائے تو اسپیکر فوری طور پر اپنے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے، تاہم وہ رکنِ پارلیمنٹ (ایم پی) کی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔اگر قرارداد مسترد ہو جائے تو اسپیکر بدستور اپنے عہدے پر فائز رہتا ہے۔

موجودہ صورتحال

اطلاعات کے مطابق تقریباً 120 اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے دستخطوں کے ساتھ یہ نوٹس 10 فروری کو لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کو دیاگیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس قرارداد کو 9 مارچ کو، جو بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کا پہلا دن ہوگا، ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جب تک قرارداد زیرِ غور نہیں آتی، اوم برلا ممکنہ طور پر ایوان کی کاروائی میں شرکت سے گریز کریں گے۔

 کیا پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟

بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں اب تک کسی بھی لوک سبھا اسپیکر کو عدم اعتماد یا برطرفی کی قرارداد کے ذریعے کامیابی سے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکا، اگرچہ ماضی میں اس نوعیت کی کوششیں ضرور کی گئی ہیں۔یہ معاملہ نہ صرف پارلیمانی روایات بلکہ جمہوری اقدار کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔