کرناٹک میں وزیرِ اعلیٰ سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت 13 فروری کو اپنے اقتدار کے 1000 دن مکمل کر رہی ہے۔ یہ سنگِ میل ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے جو بڑے فلاحی وعدوں، شدید سیاسی مباحث اور مسلسل تنقید کے درمیان گزرا ہے۔سال 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 224 میں سے 135 نشستیں جیت کر شاندار واپسی کی اور بی جے پی کے پانچ سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔ سدارامیا وزیرِ اعلیٰ اور ڈی کے شیوکمار نائب وزیرِ اعلیٰ بنے، جبکہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی “تبدیلی کے وعدے” کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔
پانچ گارنٹی اسکیمیں: حکومت کی سب سے بڑی پہچان
کانگریس حکومت نے انتخابی وعدوں کے مطابق اقتدار میں آتے ہی پانچ اہم گارنٹی اسکیمیں نافذ کیں، جن میں:
گِرہ جیوَتی: ہر گھر کو 200 یونٹ مفت بجلی
گِرہ لکشمی: خواتین سربراہانِ خانہ کو 2,000 روپے ماہانہ
اَنّ بھاگیہ: بی پی ایل خاندانوں کو 10 کلو مفت چاول
یُووا نِدھی: بے روزگار گریجویٹس اور ڈپلوما ہولڈرز کے لیے مالی امداد
شکتی اسکیم: ریاست بھر میں خواتین کے لیے مفت بس سفر
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان اسکیموں کے تحت اب تک 1.13 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کی خواتین کا کہنا ہے کہ ان اسکیموں سے ان کی روزمرہ زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر مفت بس سفر اور ماہانہ مالی امداد نے آمد و رفت اور گھریلو اخراجات کو آسان بنایا ہے۔
سیاسی تجزیہ اور حکومتی دعوے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 1000 دن ایک طویل مدت ہوتی ہے اور سدارامیا حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے اپنے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کیا۔ اگرچہ کچھ حلقوں میں شکایات موجود ہیں، تاہم متعدد رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان اسکیموں کے فوائد واقعی عوام تک پہنچے ہیں۔
حکومتی وزراء کا دعویٰ ہے کہ کانگریس حکومت نہ صرف پانچ سالہ مدت مکمل کرے گی بلکہ 2013-2018 کے دور کی طرح مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
الزامات، تنازعات اور اپوزیشن کا دباؤ
دوسری جانب، حکومت کو گزشتہ ڈھائی برسوں میں کئی تنازعات اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ والمی کی ترقیاتی کارپوریشن معاملے میں ایک وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں زمین الاٹمنٹ اور محکمہ ایکسائز میں مبینہ بدعنوانی جیسے معاملات اپوزیشن کے حملوں کا سبب بنے۔بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ کرناٹک کی تاریخ کی بدترین حکومت ہے، جس نے تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کو نظرانداز کیا ہے۔ تاہم حکومت ان الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔
قیادت کا سوال اور اندرونی کشمکش
کانگریس کے اندر قیادت کو لے کر جاری رسہ کشی بھی ایک بڑا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ وزیرِ اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار عوامی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن شیوکمار کے حامیوں کی جانب سے قیادت کی تبدیلی کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قیادت سے متعلق فیصلہ کانگریس ہائی کمان ہی کرے گی، تاہم دہلی سے واضح اشارے نہ ملنے کے باعث یہ معاملہ تاحال زیرِ بحث ہے۔
آگے کا راستہ
کانگریس حکومت اپنے 1000 دن مکمل ہونے کی خوشی میں ہاوَیری میں ایک بڑے عوامی پروگرام کا انعقاد کرے گی، جہاں ایک لاکھ سے زائد مستحقین کو جائیداد کے مالکانہ حقوق کے دستاویزات دیے جائیں گے۔اگرچہ کانگریس قیادت کی توجہ اب 2028 کے اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے، لیکن مبینہ گھوٹالے، مالی نظم و نسق اور قیادت کے غیر حل شدہ سوالات آئندہ دنوں میں حکومت کے لیے بڑے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔