بھارتیہ جنتا پارٹی نے تنظیمی سطح پر اپنی نئی ٹیم کا اعلان کیا ہے، جس میں اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے مسلم رہنما پروفیسر طارق منصور کو بھی اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ طارق منصور اس وقت اتر پردیش قانون ساز کونسل کے رکن ہیں اور اس سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ طارق منصور نے اس سے پہلے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج اور اسپتال کے پرنسپل کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر مسلم شناخت کے ساتھ ساتھ او بی سی پس منظر رکھنے والے رہنما کے طور پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
طارق منصور کی تقرری کیوں اہم ہے؟
سیاسی تجزیے کے لحاظ سے طارق منصور کو بی جے پی کی نئی ٹیم میں جگہ ملنا محض ایک مسلم چہرے کی شمولیت نہیں ہے۔ ان کا تعلق او بی سی طبقے سے بھی ہے، جس کی وجہ سے ان کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
بی جے پی گزشتہ کچھ عرصے سے پسماندہ طبقات اور مسلم سماج کے مختلف حصوں تک اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ایسے میں طارق منصور کو تنظیم میں ذمہ داری دینا خاص طور پر او بی سی مسلمانوں تک سیاسی رسائی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
طارق منصور اپریل 2023 میں اے ایم یو کے وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اب پارٹی کی تنظیم میں انہیں مزید اہم ذمہ داری ملنے سے یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ بی جے پی اتر پردیش میں اپنے روایتی ووٹر بیس سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کنور باسط علی کو بھی اہم ذمہ داری
طارق منصور کے علاوہ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے کنور باسط علی کو بھی پارٹی میں اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہیں بی جے پی کے قومی اقلیتی مورچہ کی قیادت سونپی گئی ہے۔ یعنی ایک طرف پارٹی نے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے ایک او بی سی رہنما کو مرکزی تنظیم میں جگہ دی، تو دوسری طرف اقلیتی مورچے کی قیادت بھی اتر پردیش کے رہنما کو دی گئی ہے۔
یوپی میں مسلمان بی جے پی کے لیے کیوں اہم ہیں؟
اتر پردیش ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ انتخابی اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے۔ ریاست میں مسلم آبادی ایک بڑا ووٹر گروپ ہے اور طویل عرصے سے سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بعض علاقوں میں بی ایس پی کی سیاست میں اس طبقے کا اہم کردار رہا ہے۔
ایسے میں اگر بی جے پی مسلم سماج کے کسی حصے، خاص طور پر پسماندہ یا او بی سی مسلمانوں میں اپنی سیاسی قبولیت بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر ریاست کی انتخابی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کی حکومتی اسکیمیں مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سب کے لیے ہیں اور پارٹی "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے اصول پر کام کرتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اکثر بی جے پی کی اقلیتی سیاست اور انتخابی حکمت عملی پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ طارق منصور اور کنور باسط علی جیسے مسلم رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں دینے سے کیا بی جے پی واقعی یوپی کے مسلم ووٹروں کے ایک حصے تک پہنچ پائے گی؟
یا یہ صرف تنظیمی سطح کی نمائندگی تک محدود رہے گا؟
اس کا جواب آنے والے انتخابات میں ملے گا، جہاں مسلم ووٹ، او بی سی سیاست اور بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی ایک دوسرے سے جڑتے ہوئے نظر آ سکتے ہیں۔