اتر پردیش کے ضلع بلرام پور میں ہولی کے موقع پر خاتون سپاہی کو زبردستی رنگ لگانے اور چھیڑخانی کے معاملے میں گورکھپور زون کے ایڈی جی متھا اشوک جین نے سخت کاروائی کی ہے۔ تحقیقات میں قصوروار پائے جانے والے سپاہیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں معطل کر دیا گیا ہے اور اب ان پر برطرفی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔
اس معاملے میں بلرام پور کوتوالی دیہی تھانے میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل امیت کمار، کانسٹیبل پنّے لال اور کانسٹیبل شیلیندر کمار کے خلاف 26 نومبر کو مقدمہ درج کرتے ہوئے تینوں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کے تحت دفعہ 14(1) کی کاروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ایڈی جی زون کے حکم پر کاروائی:
ایڈی جی زون متھا اشوک جین نے کہا کہ خواتین سے متعلق جرائم کے معاملات میں زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ 15 مارچ 2025 کو بلرام پور کوٹوالی میں ہولی کھیلنے کے دوران پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون سپاہی کو رنگ لگا دیا تھا۔ الزام ہے کہ خاتون پولیس اہلکار نے انہیں رنگ لگانے سے روکا تھا، پھر بھی انہوں نے یہ حرکت کی۔
خاتون پولیس اہلکار سے تھانے میں بدتمیزی
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی تحریر میں الزام لگایا کہ 15 مارچ کو ہولی کے پروگرام کے بعد وہ تھانے پر چابی لینے آئی تھی۔ اس دوران نشے میں دھت تین سپاہیوں (ہیڈ کانسٹیبل امیت کمار، کانسٹیبل شیلیندر کمار اور کانسٹیبل پنّے لال) نے اسے رنگ لگانے کی کوشش کی اور چھیڑخانی شروع کر دی۔ ان سے بچنے کے لیے وہ تھانے میں کھڑے ٹریکٹر پر چڑھ گئی۔
ملزموں نے اسے زبردستی نیچے اتار کر رنگ لگایا، اس کے نجی اعضاء کو چھوا اور فحش زبان اور غیر مہذب الفاظ استعمال کیے۔ خاتون سپاہی نے بتایا کہ وہ اکیلی کرائے کے کمرے میں رہتی ہے، اس لیے اسے ڈر بھی لگ رہا ہے۔ متاثرہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان پر کارروائی نہ ہوئی تو وہ اس کے ساتھ کوئی ناگہانی واقعہ کر سکتے ہیں۔
تحقیقات میں قصوروار پائے جانے پر ایکشن
17 مارچ کو ایڈیشنل ایس پی کے نوٹس میں یہ معاملہ آیا، جس کے بعد وشاکھا ٹیم تشکیل دی گئی اور معاملہ تفتیشی کمیٹی کو سونپا گیا۔ تفتیشی رپورٹ میں تینوں پولیس اہلکار قصوروار پائے گئے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ خاتون سپاہی کی رضامندی کے بغیر ہی اسے زبردستی رنگ لگایا گیا اور بدتمیزی کی گئی۔ کمیٹی نے ان کے کردار کو قصوروار پایا اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔