بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے جاری پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات میں شدت آگئی ہے۔ منشی گنج اور گوپال گنج کے پولنگ اسٹیشنز پر دیسی ساختہ بموں کے دھماکوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، کھلنا میں ایک پولنگ اسٹیشن پر جھگڑے کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے ایک کارکن کی موت واقع ہوگئی، جبکہ فینی میں ایک خاتون رہنما کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
منشی گنج: امیدواروں کے حامیوں میں تصادم اور دھماکہ:
ڈیلی اسٹار کے مطابق، منشی گنج صدر ذیلی ضلع کے مکھاٹی گروچرن ہائی اسکول میں دو حریف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان تصادم کے بعد دیسی بم پھینکا گیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق، اس واقعے کے بعد پولنگ اسٹیشن پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے ابھی تک کسی جانی نقصان کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے۔
گوپال گنج: بچی سمیت 3 افراد زخمی:
گوپال گنج میں ایک انتخابی مرکز پر ہونے والے دھماکے میں دو انصار ارکان اور ایک 13 سالہ بچی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی شناخت سوکانتو مجمدار، جمال ملا اور تیرہ سالہ آمنہ خانم کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے ابھی تک حملہ آوروں کو گرفتار نہیں کیا ہے۔
کھلنا:ہاتھا پائی کے بعد بی این پی رہنما انتقال :
کھلنا کے عالیہ مدرسہ پولنگ اسٹیشن کے اندر ووٹوں کی مبینہ ہیرا پھیری پر ہونے والے جھگڑے کے بعد بی این پی کے سابق دفتر سیکرٹری محفوظ الزماں کوچی (58) شدید زخمی ہو گئے، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے۔اطلاعات کے مطابق، ان کی مدرسے کے پرنسپل اور جماعت اسلامی کے رہنما محمد عبد الرحیم سردار کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی تھی، جس کے دوران وہ زمین پر گر پڑے اور ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔
خاتون رہنما کی مشکوک موت
فینی شہر میں ایک کرائے کے مکان سے بی این پی کی خاتون رہنما رکسانہ اختر لیپی (31) کی لاش برآمد ہوئی ہے۔رکسانہ فینی میونسپلٹی کے وارڈ 11 میں 'خاتون دل' (بی این پی کا خواتین ونگ) کی کنوینر تھیں۔
ان کی لاش کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔وہ انتخابی مہم میں کافی سرگرم تھیں، پولیس اس معاملے کی خودکشی اور دیگر پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔