بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات اور قومی ریفرنڈم کے لیے پولنگ جاری ہے، لیکن اس دوران تشدد، بدعنوانی اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ، جس پر الیکشن لڑنے کی پابندی ہے، سوشل میڈیا پر مسلسل ایسی ویڈیوز اور خبریں شیئر کر رہی ہے جو انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ڈھاکہ-6 کے ایک پولنگ سینٹر (جوبلی اسکول اینڈ کالج) میں رات کے وقت خفیہ طور پر ووٹ ڈالے گئے۔
نقدی کی برآمدگی اور گرفتاریاں:
پولیس نے سید پور ایئرپورٹ پر جماعت اسلامی کے ٹھاکر گاؤں کے سربراہ کو 74 لاکھ ٹکا کے ساتھ حراست میں لیا ہے۔ڈھاکہ میں جماعت اسلامی کے ایک مقامی نائب امیر، محمد حبیب کو ووٹ خریدنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔باریسال کے بابو گنج میں فوج نے گشت کے دوران بی این پی کے دو کارکنوں کو ایک لاکھ ٹکا اور انتخابی پرچیوں سمیت گرفتار کیا۔
تصادم اور پرتشدد واقعات:
ملک کے مختلف حصوں سے خونریز جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں:چٹگرام میں بی این پی کارکن کے گھر پر مسلح گروہ نے فائرنگ کی، جبکہ منشی گنج میں پولنگ اسٹیشن کے قریب جھڑپوں میں 3 افراد زخمی ہوئے۔بوگرا میں ایک کالج کے صدر کو پولنگ اسٹیشن کے قریب چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا۔کھلنا-5 کے حلقے میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما پر ہندو ووٹرز کو دھمکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔عوامی لیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ دھاندلی کی کوریج کرنے والے ایک ٹی وی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنا کر یرغمال بنایا گیا۔
تشدد میں اضافہ :
رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش میں دسمبر سے اب تک انتخابی تشدد کے 400 سے زائد واقعات درج کیے جا چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آئی، جن میں قتل اور لوٹ مار جیسے سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات:
انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے ملک بھر میں 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں:ایک لاکھ فوجی، 5 ہزار نیوی اور تقریباً 3,700 ایئر فورس کے اہلکار الرٹ ہیں۔1.87 لاکھ پولیس اہلکار اور 5.76 لاکھ انصار رضا کار ڈیوٹی پر ہیں۔ان سخت انتظامات اور چپے چپے پر فوج کی موجودگی کے باوجود تشدد کے واقعات پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔