اتر پردیش کے بریلی میں 26ستمبر جمعہ کومسلم برادری کی جانب سے 'آئی لو محمد'پوسٹر تنازع پر احتجاج نکالا گیا۔جس دوران یوپی پولیس نے بد امنی کے نام پر مظاہرین پر لاٹھی چارج کر دی،جس میں کئی نوجوان زخمی بھی ہوئے ،بعد ازاں پولیس کاروائی کرتے ہوئے، آئی ایم سی کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان سمیت دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔تاہم اب الہ آباد ہائی کورٹ نے ، جن پر تشدد کے ماسٹر مائنڈ کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ تمام فریقین کو سننے کے بعد ناظم رضا خان کو ضمانت دے دی ہے۔
کس دفعات میں مقدمہ درج ہوا تھا؟
بریلی کے باردواری پولیس اسٹیشن میں ناظم رضا خان کے خلاف دفعہ 190، 191 (2)، 191 (3)، 121، 125، 124 (4)، 352، 351 (3)، 109، 299، 223، 61 (2) اور آئی پی سی کے سیکشن (2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ ارشاد احمد اور عمر خالد نے عدالت میں دلیل دی کہ ناظم رضا خان کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھا۔ ایف آئی آر میں 28 نامزد اور 200–250 نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار کا نام بعد میں تفتیش کے دوران شامل کیا گیا تھا۔
ساتھی ملزم کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے:
درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اسی کیس میں شریک ملزم محمد مصطفیٰ کی 24 نومبر 2025 کو پہلے ہی ضمانت ہو چکی تھی، برابری پر ناظم رضا خان کو بھی ضمانت دی گئی تھی۔ درخواست گزار کے دفاع نے یہ بھی دلیل دی کہ ناظم رضا خان 29 ستمبر 2025 سے جیل میں ہیں، ان کی کوئی مجرمانہ تاریخ نہیں ہے، ضمانت ملنے پر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔
دوسری طرف ریاستی حکومت کی طرف سے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی گئی، لیکن عدالت نے تمام حقائق اور دلائل پر غور کرنے کے بعد ناظم رضا خان کو مشروط ضمانت دے دی۔