Wednesday, February 04, 2026 | 16, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • اتراکھنڈ میں جولائی 2026 سے مدرسہ بورڈ کا وجود ختم

اتراکھنڈ میں جولائی 2026 سے مدرسہ بورڈ کا وجود ختم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 04, 2026 IST

اتراکھنڈ میں جولائی 2026 سے مدرسہ بورڈ کا وجود ختم
اتراکھنڈ میں جولائی 2026 سے مدرسہ بورڈ کا وجود ختم ہو جائے گا۔ نئی انتظامیہ کے تحت اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کا قیام کر دیا گیا ہے اور اس کی نوٹیفکیشن بھی جاری کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے گزشتہ اسمبلی سیشن میں مدرسہ بورڈ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس نئے قانون کے تحت اب نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ سکھ، جین، عیسائی، بدھ اور پارسی برادریوں کے تعلیمی اداروں کو بھی ریاست میں اقلیتی ادارے کا درجہ ملے گا۔
 
بورڈ میں تمام اقلیتی برادریوں کے ماہرین تعلیم شامل:
 
سی ایم دھامی کے احکامات کے بعد  قائم شدہ اتھارٹی میں پروفیسرز اور ماہرین تعلیم کو نامزد کیا گیا ہے جو اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی نصاب طے کرے گی۔اس اتھارٹی میں تمام اقلیتی برادریوں کے ماہرین تعلیم کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں شامل افراد یہ ہیں:
 
 ڈاکٹر سرجیت سنگھ گاندھی :چیئرمین
 
 پروفیسر راکیش جین  
 
ڈاکٹر سید علی حمید
  
 پروفیسر پیما تنزین
  
ڈاکٹر ایلبا میڈریلے
  
 پروفیسر روبینہ امان
  
پروفیسر گرمیت سنگھ 
 
اس کے علاوہ سماجی کارکن راجندر بِشْٹ اور ریٹائرڈ افسر چندر شیکھر بھٹ بھی اراکین ہوں گے۔
 
اب یہ اتھارٹی طے کرے گی کہ اقلیتی بچوں کو کس قسم کی تعلیم دی جائے گی۔ یہ اتھارٹی نصاب تیار کرے گی۔ جسکے بعد تمام اقلیتی ادارے اتراکھنڈ ایجوکیشن بورڈ سے منظوری حاصل کریں گے۔
 
مدرسہ بورڈ کے صدر نے سی ایم دھامی کا شکریہ ادا کیا:
 
مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرنے کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مدرسہ بورڈ کے صدر مفتی شمعون قاسمی نے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کا قیام ایک تاریخی قدم ہے اور اقلیتی تعلیم کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
 
مدرسوں کو نئے سرے سے منظوری لینی ہوگی:
 
دھامی حکومت نے گزشتہ سال اعلان کیا تھاکہ 1 جولائی 2026 سے موجودہ مدرسہ بورڈ کو تحلیل کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ 'اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی' تشکیل دی گئی ہے۔ ریاست کے 452 مدارس سمیت تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کو اس اتھارٹی سے از سرے نو منظوری حاصل کرنی ہوگی۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیم کے معیار، شفافیت اور اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ تسلیم شدہ ہونے کے لیے تعلیمی اداروں کو اتھارٹی میں رجسٹریشن کروانا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں کی جائیداد ان کے اپنے نام پر ہونی چاہیے۔
 
مدارس پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی:
 
آپ کو بتاتے چلیں کہ اتراکھنڈ میں رجسٹرڈ مدارس کی تعدادقریب  452 ہے،یہ تمام ادارے حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ ہیں اور بورڈ کے رہنما خطوط کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ان مدارس میں ہزاروں بچے پڑھتے ہیں جن میں سے اکثر کی مالی حالت خراب ہے۔
 
اسی طرح پشکر سنگھ دھامی حکومت نے تقریباً222 مدارس کو غیر قانونی بتا کر سیل کر دیا ہے۔اگر ہم ضلع وار بات کریں تو ہریدوار میں 85، ادھم سنگھ نگر میں 66، دہرادون میں 44، نینیتال میں 24، پوڑی میں 2 اور الموڑہ میں ایک مدرسے کو سیل کیا گیا ہے۔
 
 ان میں سے کئی مدارس برسوں پرانے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر قانونی تھے اور تعلیمی معیار اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے سیل کرنا ضروری تھا۔تاہم  مسلم رہنماؤں نے حکومت کی اس کاروائی کو اقلیتی مخالفت کے طور پر کہا ہے،جہاں بڑے پیمانے پر اسلامک درسگاہوں کو نشانہ بنایا گيا۔تا ہم ا ب حکومت کے اس نئے ایکٹ سے کیا تبدیلی ہوگی ، یہ آنے والے وقت میں دیکھنا ہوگا۔