بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کے نوجوانوں، خصوصا ’جن زی‘ سے اپیل کی کہ وہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کی مبینہ سیاسی چالوں اور سازشوں سے ہوشیار رہیں۔مایاوتی نے کہا کہ آج طلبہ اور نوجوانوں میں بے روزگاری، تعلیم اور مستقبل کو لے کر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سیاسی حالات کو سمجھ کر محتاط انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ جب ان کی پارٹی اقتدار میں تھی تو طلبہ اور نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ ایک جانب سرکاری شعبے کو کمزور کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب نجی شعبے کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔ مایاوتی کے مطابق اس کا فائدہ ملک کے بڑے سرمایہ داروں کو ہو رہا ہے، جبکہ غریب، بے روزگار اور پسماندہ طبقات مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن کا مطالبہ
مایاوتی نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی نے کبھی ذات پات اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کی بنیاد پر حکومت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی سب کی فلاح و بہبود کے اصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے دلتوں، آدیواسیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کے مسئلے پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔ مایاوتی کا کہنا تھا کہ سرکاری شعبے میں روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے ریزرویشن کا فائدہ بھی محدود ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں کی طرح نجی شعبے میں بھی ریزرویشن نافذ کیا جائے تاکہ پسماندہ طبقات کو روزگار کے زیادہ مواقع مل سکیں۔
تین ریاستوں کے انتخابات پر مایاوتی کی اپیل
مایاوتی نے اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں ہونے والے آئندہ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے بی ایس پی کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط کرنا ملک اور عوام کے مفاد میں ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایس پی کی مضبوطی سے طلبہ، دلت، آدیواسی، او بی سی، مسلمان، کسان، مزدور، تاجر، ملازمین اور دیگر اقلیتوں سمیت سماج کے مختلف طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ مایاوتی نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ جذباتی سیاست کا حصہ بننے کے بجائے اپنے روزگار، تعلیم، سماجی حقوق اور مستقبل سے متعلق مسائل کو ترجیح دیں اور سیاسی جماعتوں سے ان مسائل پر جواب طلب کریں۔