• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • طلبہ کے احتجاج پر جھڑپیں، چار پولیس اہلکار زخمی، سابق جے پی ایس سی چیئرمین بھی گرفتار،بی جے پی نے پوری ریاست بند کی کال دے دی

طلبہ کے احتجاج پر جھڑپیں، چار پولیس اہلکار زخمی، سابق جے پی ایس سی چیئرمین بھی گرفتار،بی جے پی نے پوری ریاست بند کی کال دے دی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 11, 2026 IST

طلبہ کے احتجاج پر جھڑپیں، چار پولیس اہلکار زخمی، سابق جے پی ایس سی چیئرمین بھی گرفتار،بی جے پی نے پوری ریاست بند کی کال دے دی
جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ رانچی میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے 11 اگست کو ریاست بند کی ہدایت دی ہے۔ جھارکھنڈ بی جے پی کے صدر آدتیہ ساہو کے مطابق بند صبح 8 بجے شروع ہوگا اور آدھی رات تک جاری رہے گا۔ 

رانچی میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ

رانچی میں طلبہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یہ احتجاج اس وقت کشیدگی میں بدل گیا جب مظاہرین نے جھارکھنڈ اسمبلی کے قریب پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے اسمبلی کے قریب لگائی گئی کئی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی۔ انہیں روکنے کے لیے پولیس نے پانی کی توپوں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس دوران کئی مظاہرین اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس کی کاروائی میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ رانچی سٹی کے ایس پی پارس رانا کے مطابق مظاہرین کی جانب سے مبینہ پتھراؤ کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

اے بی وی پی کا آج طلبہ مارچ

طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے بھی احتجاج تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے بی وی پی 11 اگست کو صبح 11:30 بجے طلبہ مارچ نکالے گی۔یہ مارچ ٹنکونیا کے پرانے اسمبلی گراؤنڈ سے شروع ہو کر نئی اسمبلی کی عمارت تک جائے گا۔ تنظیم جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپنی تحریک کو مزید تیز کرنا چاہتی ہے۔

بھوک ہڑتال پر بیٹھے طالب علم کی طبیعت بگڑ گئی

احتجاج کے دوران طالب علم کارکن دیویندر ناتھ مہتو کی طبیعت بھی خراب ہوگئی۔ وہ جھارکھنڈ کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف گزشتہ نو دن سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں رانچی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے اور ان کے خون میں شوگر کی سطح بہت زیادہ کم ہوگئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے پولیس اور انتظامیہ کی تعریف کی

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے صورتحال سے نمٹنے پر پولیس اور انتظامی حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے طلبہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ان کا حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی آواز کا احترام کرے۔ ہیمنت سورین نے کہا کہ حکومت امتحانی نظام کو مزید شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی، محفوظ اور جوابدہ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی میں طلبہ کی شرکت بہت اہم ہے۔

اپوزیشن نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا

دوسری جانب جھارکھنڈ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ مرانڈی کے مطابق طلبہ رانچی کے جئے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں گزشتہ 15 دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بھرتی امتحانات پر سوالات اٹھائے جا چکے ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں واضح کاروائی کرنی چاہیے۔

جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین گرفتار

اسی دوران جھارکھنڈ سی آئی ڈی نے جے پی ایس سی کے سابق چیئرمین ایل کھیانگٹے کو مبینہ بھرتی بے ضابطگیوں کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کھیانگٹے سے بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے پہلے بھی کئی مرتبہ پوچھ تاچھ کی جا چکی تھی۔سی آئی ڈی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل منوج کوشک نے کھیانگٹے کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جے پی ایس سی کی جانب سے کرائے گئے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امیدوار مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور بھرتی کے امتحانات کے نظام میں اصلاحات اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ای ڈی نے بھی تحقیقات شروع کر دیں

اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی نے بھی کاروائی شروع کر دی ہے۔ ای ڈی نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے 14ویں ابتدائی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کاروائی گزشتہ ہفتے سی آئی ڈی میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

طلبہ کے اہم مطالبات کیا ہیں؟

احتجاج کرنے والے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امیدواروں کے اہم مطالبات میں جے ایس ایس سی سی جی ایل امتحان منسوخ کرنا، مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی تحقیقات اور ریاست کے بھرتی نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔ طلبہ کئی دنوں سے رانچی میں احتجاج کر رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ صرف طلبہ کے احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ جھارکھنڈ کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے ریاست بند اور اے بی وی پی کے طلبہ مارچ کے اعلان کے بعد جھارکھنڈ میں احتجاج کا معاملہ مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔