• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی بڑی شرائط، جنگی نقصانات کے معاوضے سمیت کئی مطالبات پیش

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی بڑی شرائط، جنگی نقصانات کے معاوضے سمیت کئی مطالبات پیش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 11, 2026 IST

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی بڑی شرائط، جنگی نقصانات کے معاوضے سمیت کئی مطالبات پیش
ایران نے امریکہ سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے بدلے 300 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے روکے گئے اثاثوں میں سے 100 ارب ڈالر تک کی رقم واپس کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بجائے ایران کو امریکہ کو اور حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضہ دینا چاہیے۔

ایران نے کیا مطالبہ کیا؟

رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ کے سامنے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کے طور پر 300 ارب ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران  نے اپنے اثاثوں میں سے 100 ارب ڈالر تک کی رقم جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔  ایران نے ان مطالبات کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے سے جوڑ دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے پہلے چاہتا ہے کہ امریکہ جنگی نقصانات کا معاوضہ دے، پابندیاں ختم کرے، فوجی دھمکیاں بند کرے اور منجمد ایرانی اثاثے واپس کرے۔

 ٹرمپ نے مطالبہ مسترد کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کے مطالبے کو ایک ’’دلچسپ خیال‘‘ قرار دیا، لیکن اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے تو وہ بھی مستقبل کے مذاکرات میں ایران سے معاوضے کا مطالبہ کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کو ان لوگوں کے خاندانوں کو معاوضہ دینا چاہیے جو ایرانی حملوں اور کاروائیوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے خاص طور پر 2000 میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے بم حملے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کا بھی ذکر کیا، جو 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

 ٹرمپ نے 52 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ بھی کیا

ٹرمپ نے گزشتہ 50 سالوں  کے دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ پانچ ماہ کے تنازع کے دوران 52 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، انہوں نے اس دعوے کی حمایت میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران سے معاوضے کا مطالبہ ضرور کیا جائے۔

 آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف

 ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو اپنے مطالبات سے جوڑ دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اس کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔ میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

 ٹرمپ کی دھمکی اور ایران کا جواب

ٹرمپ کئی مرتبہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلا ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران کو بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ایران طویل جنگ کے لیے تیار دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک امریکہ ایران  کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔  ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر نے بھی لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ اور مبینہ جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب فورس کے مطابق، جب تک امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز ایک ’’جنگی محاذ‘‘ کی حیثیت رکھے گا۔