طلبہ کے خلاف پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کے معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی مسلسل مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے جواب طلب کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا ہے کہ 20 جون کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے دوران طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت کس نے دی؟ دوسری جانب این ڈی اے نے الزام لگایا ہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے پر ایوان میں تفصیلی بحث کے لیے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن اب بحث سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس معاملے کو لے کر پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کیا۔ ارکان پارلیمنٹ ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے مارچ کرتے نظر آئے۔ پوسٹروں پر ”راہل گاندھی، وزیر داخلہ کی بحث سے نہ بھاگو“ جیسے نعرے درج تھے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کئی دنوں سے وزیر داخلہ سے جواب مانگ رہے ہیں، لیکن اب جب امیت شاہ ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں تو انہیں بحث سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ رجیجو نے راہل گاندھی سے ایوان میں آکر وزیر داخلہ کا سامنا کرنے کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی بار بار اپنا موقف تبدیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی کے معاملے پر بھی جواب دینا چاہیے۔ احتجاج کے دوران بعض بی جے پی رہنماؤں نے راہل گاندھی کے خلاف سخت نعرے بھی لگائے۔ بی جے پی لیڈر ارون سنگھ نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی جھارکھنڈ کے واقعات سے فرار اختیار کر رہے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا نے بھی اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت بحث کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن اس سے پیچھے ہٹتی ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ساکشی مہاراج نے دعویٰ کیا کہ پوری اپوزیشن بحث سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ترون چُگ نے راہل گاندھی پر دوہرے معیار کا الزام لگایا۔ رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا کہ امیت شاہ ایوان میں اس معاملے پر جواب دیں گے اور راہل گاندھی کو بحث سے بھاگنے کے بجائے ایوان میں موجود رہنا چاہیے۔ مرکزی وزیر انوپریہ پٹیل نے بھی کہا کہ حکومت پیپر لیک سمیت اہم معاملات پر بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پیپر لیک کے خلاف سخت قانون بنایا ہے اور وزیر داخلہ ایوان میں حکومت کا موقف واضح کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے چیمبر میں ہونے والی اس میٹنگ میں آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ٹی ایم سی کی مہوا موئترا، آر جے ڈی کے سنجے یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سنجے راوت اور کانگریس کے جے رام رمیش، ناصر حسین اور راجیو شکلا سمیت کئی اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ اب سب کی نظریں پارلیمنٹ کی کارروائی پر ہیں کہ کیا طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باقاعدہ بحث ہو پاتی ہے یا سیاسی ہنگامہ ایک بار پھر ایوان کی کارروائی پر حاوی رہتا ہے؟