بھوجپوری فلم انڈسٹری کے معروف اداکاراور گلوکار کھیساری لال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ قومی مفاد میں کی گئی اپیلوں پر ردعمل دیتے ہوئے مہنگائی، عام شہری کی مشکلات اور معاشی دباؤ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پٹنہ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کھیساری لال یادو نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں اصل دباؤ عام شہری پر ہے، جبکہ وہ طبقہ جو وسائل رکھتا ہے نسبتاً محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں کا اثر سب سے زیادہ کم آمدنی والے افراد پر پڑتا ہے، جو روزمرہ اخراجات میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مہنگائی اورعوامی مسائل پر بات
کھیساری لال یادو نے کہا کہ مہنگائی کی صورتحال پر پہلے بھی اقدامات کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق عام شہری کے لیے پیٹرول، ڈیزل اور بنیادی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ اس کا بوجھ سب سے زیادہ غریب طبقہ برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "تحفظ" اور "بچت" کی اپیلیں وہ طبقہ زیادہ مؤثر طریقے سے کر سکتا ہے جو مالی طور پر مضبوط ہے، جبکہ عام شہری کے لیے روزمرہ اخراجات پہلے ہی مشکل ہیں۔
صنعتکاروں اور فنکاروں سے عطیات کی تجویز
انہوں نے ایک تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بڑے صنعتکاروں اور فلمی شخصیات سے قومی مفاد میں رضاکارانہ تعاون اور عطیات کی اپیل کرنی چاہیے، تاکہ اس کا فائدہ کمزور طبقے تک پہنچ سکے۔ ان کے مطابق معاشی دباؤ کے اس دور میں اجتماعی تعاون زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
نیٹ پیپر لیک پر ردعمل
نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس سے طلبہ براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
سماجی اور سیاسی ماحول پر تبصرہ
بہار میں مبینہ انکاؤنٹرز اور امن و امان سے متعلق سوال پر کھیساری لال یادو نے کہا کہ وہ ایک فنکار ہیں اور اس نوعیت کے سیاسی یا انتظامی معاملات پر تفصیلی تبصرہ کرنا ان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مجرموں کی کوئی ذات نہیں ہوتی"، اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
فلموں کی ریلیز پر موقف
اپنی آنے والی فلموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر فلم انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے تفریحی صنعت پر بھی اثر ڈالا ہے، جس کے باعث وہ فی الحال اپنی نئی فلموں کی ریلیز کے بارے میں محتاط ہیں۔