Wednesday, June 17, 2026 | 30 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • جی 7 اجلاس میں وزیراعظم مودی کا عالمی رہنماؤں سے خطاب، سمندری سلامتی اور سفارت کاری پر زور

جی 7 اجلاس میں وزیراعظم مودی کا عالمی رہنماؤں سے خطاب، سمندری سلامتی اور سفارت کاری پر زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 17, 2026 IST

جی 7 اجلاس میں وزیراعظم مودی کا عالمی رہنماؤں سے خطاب، سمندری سلامتی اور سفارت کاری پر زور
وزیراعظم نریندر مودی نے جی 7 سربراہی اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عالمی سمندری راستے محفوظ رہیں اور بحری جہاز بغیر کسی خوف اور رکاوٹ کے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
 
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی تنازعے کا مستقل اور پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں سمندری تجارت میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے اور اس تنازعے کے باعث کئی ہندوستانی شہریوں نے بھی اپنی جانیں گنوائی ہیں۔
 
سمندری عملے کے تحفظ پر مودی کا زور اس پس منظر میں آیا جب گزشتہ ہفتے عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے میں عملے کے تین ہندوستانی ارکان ہلاک ہوئے، جس پر ہندوستان میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
 
مودی اور کیئر اسٹارمر کے درمیان دو طرفہ ملاقات
 
جی 7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، ٹیکنالوجی، اختراع، دفاع، صاف توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
 
ملاقات کے دوران مغربی ایشیا کی صورتحال، یوکرین تنازع اور دیگر علاقائی و عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے پیغام میں وزیراعظم مودی نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات کے لیے اہم رہا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ حالیہ تجارتی معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے راستے کھولے ہیں۔ مودی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، اختراع، مہارت کی ترقی، کھیل اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو اس سے فائدہ پہنچ سکے۔