برین اسٹروک ایک ایسی طبی ایمرجنسی ہے جس میں چند منٹوں کی تاخیر بھی مریض کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اسٹروک کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے اور اس کی ابتدائی علامات کو سمجھنے کی ضرورت پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔پروگرام میں Dr. Mohd. Haneef Mohiuddin، MBBS, MD, IDCCM نے برین اسٹروک، اس کی علامات، خطرے کے عوامل اور بروقت طبی امداد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
برین اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسی حصے تک خون کی روانی متاثر ہوجائے یا دماغ میں خون کی نالی پھٹ جائے۔ زیادہ تر کیسز میں خون کی نالی میں رکاوٹ کے باعث Ischemic Stroke ہوتا ہے، جبکہ بعض مریضوں میں خون بہنے کی وجہ سے Hemorrhagic Stroke ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹروک کی علامات اکثر اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔ چہرے کا ایک طرف جھک جانا، ایک بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری یا سن ہونا، بولنے یا دوسروں کی بات سمجھنے میں دشواری، اچانک نظر کمزور ہونا، توازن بگڑنا یا شدید اور غیر معمولی سر درد اس کی اہم علامات میں شامل ہوسکتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں FAST طریقہ یاد رکھنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ Face یعنی چہرے کے ایک حصے کا جھکنا، Arm یعنی ایک بازو میں کمزوری، Speech یعنی بولنے میں دقت اور Time یعنی فوری طور پر ایمرجنسی مدد حاصل کرنا۔ علامات ظاہر ہونے کے وقت کو نوٹ کرنا بھی ڈاکٹر کے لیے اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
برین اسٹروک کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول میں اضافہ، تمباکو نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بعض دل کی بیماریاں شامل ہیں۔ ان عوامل پر قابو پانے کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرز زندگی اہم ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر گھر میں علاج کرنے یا علامات ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے مریض کو فوری طور پر ایسے ہسپتال پہنچانا چاہیے جہاں اسٹروک کی تشخیص اور علاج کی سہولت موجود ہو۔ بعض اقسام کے اسٹروک میں مخصوص علاج کے لیے وقت کی ایک محدود کھڑکی ہوتی ہے، اس لیے جلد ہسپتال پہنچنا علاج کے امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
برین اسٹروک کے معاملے میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وقت ہی دماغ ہے۔ علامات کی بروقت پہچان اور فوری طبی امداد مریض کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ مستقل معذوری کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
قارئین ،ڈاکٹر محمد حنیف محی الدین - ایم بی بی ایس، ایم ڈی، آئی ڈی سی سی ایم،کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، کئی اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔