Friday, February 27, 2026 | 09 رمضان 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بچوں میں برین اور اسپائن سرجری: والدین کے خدشات اور جدید علاج

بچوں میں برین اور اسپائن سرجری: والدین کے خدشات اور جدید علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 27, 2026 IST

بچوں میں برین اور اسپائن سرجری: والدین کے خدشات اور جدید علاج
بچوں کی صحت ہر والدین کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ جب بات دماغ اور ریڑھ کی ہڈی جیسے نازک اعضاء کی ہو تو فطری طور پر خوف اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ منصف ٹی وی کےخاص  پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں رینبو چلڈرنز اسپتال حیدرآباد کے پیڈیاٹرک نیوروسرجن ڈاکٹر کوکلا پرنیت نے بچوں میں برین اور اسپائن سرجریز سے متعلق اہم اور سادہ معلومات فراہم کیں۔

 بعض مسائل بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہوتےہیں

ڈاکٹر کے مطابق بعض مسائل بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ حمل کے دوران کیے جانے والے ٹیفا اسکین اور دیگر ٹیسٹس کے ذریعے کئی نقائص کی نشاندہی ممکن ہے۔ بچوں میں عام مسائل میں ہائیڈروسیفلس شامل ہے، جس میں دماغ کے اندر پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور سر کا سائز غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتا ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو دماغی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور بینائی یا نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج کل اینڈوسکوپک طریقۂ علاج اور شَنٹ سرجری کے ذریعے اس مسئلے کا مؤثر علاج ممکن ہے۔

 اسپائنا بفیڈا ایک پیدائشی عارضہ

اسی طرح اسپائنا بفیڈا ایک پیدائشی عارضہ ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی کی بناوٹ مکمل نہیں ہوتی۔ ایسے بچوں میں ٹانگوں کی کمزوری یا پیشاب پر کنٹرول کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر پرنیت کے مطابق بیماری کی شدت کے لحاظ سے سرجری اور بحالی کے ذریعے بچوں کو بہتر زندگی دی جا سکتی ہے، اگرچہ مکمل بحالی ہر کیس میں ممکن نہیں ہوتی۔

 اسکول بیگ سے ریڑھ کی  ہڈی تیڑھی

اسکول جانے والے بچوں میں ریڑھ کی ہڈی کے تیڑھے پن یعنی اسکیولیوسس کا مسئلہ بھی دیکھا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بریس کے ذریعے اس کی شدت کو روکا جا سکتا ہے، تاہم زیادہ خم ہونے کی صورت میں سرجری ضروری ہو سکتی ہے۔ بروقت علاج سے بچے معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

ایسے مریض بچے جن پر ادویات اثر نہیں کرتیں

مرگی کے ایسے مریض بچے جن پر ادویات اثر نہیں کرتیں، انہیں ڈرگ ریفریکٹری ایپی لیپسی کہا جاتا ہے۔ ویڈیو ای ای جی، ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹس کے ذریعے دوروں کی اصل جگہ معلوم کر کے ایپی لیپسی سرجری کی جا سکتی ہے، جس سے کئی بچوں کو مستقل آرام ملتا ہے۔

بچوں  کے سر پر چوٹ  خطرناک ہو سکتی ہے

سر کی چوٹ کے حوالے سے ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ اگر بچہ گرنے کے بعد بے ہوش ہو جائے، بار بار قے کرے یا ہاتھ پاؤں میں کمزوری ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اس لیے گھروں اور بالکونیوں میں حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

بچوں کی سرجری پہلے سے زیادہ آسان اور محفوظ

جدید طبی سہولیات نے بچوں کی سرجری کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔ نیویگیشن سسٹم، کم ریڈی ایشن اسکینز اور ماہر ٹیم کی موجودگی سے پیچیدہ آپریشن بھی کامیابی سے کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچوں میں نیوروپلاسٹیسٹی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے وہ سرجری کے بعد تیزی سے صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
 
ماہرین کا مشورہ ہے کہ والدین علامات کو نظر انداز نہ کریں اور بروقت اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔ جلد تشخیص اور درست علاج نہ صرف پیچیدگیوں کو کم کرتا ہے بلکہ بچوں کو ایک صحت مند اور فعال زندگی کی امید بھی دیتا ہے۔ ڈاکٹر کی مکمل گفتگو آپ یہاں دیئے گئے  ویڈیو میں دیکھ سکتےہیں۔