Friday, February 27, 2026 | 09 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی: کابل اور قندھار پر پاکستانی فضائی حملے

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی: کابل اور قندھار پر پاکستانی فضائی حملے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 27, 2026 IST

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی: کابل اور قندھار پر پاکستانی فضائی حملے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہائیوں پرانا سرحدی تنازع جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ طالبان کے حملوں کے جواب میں پاکستانی فضائیہ نے افغان شہروں پر بمباری کی ہے جس سے جنگی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ پاک فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا شہروں میں افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے۔ پی اے ایف نے جمعرات کی آدھی رات کو فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی میڈیا نے بتایا کہ ان حملوں میں تقریباً 133 افغان طالبان مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہوئے۔ ایک کور ہیڈ کوارٹر اور قندھار میں ایک اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا گیا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق قندھار میں اسلحے کا ایک ڈپو اور لاجسٹک بیس بھی تباہ کر دیا گیا۔

  پاکستان کاآپریشن غضب ا للحق شروع

پاکستانی طیارے اس وقت قندھار کے آسمان پر گشت کر رہے ہیں۔ اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد، پی اے ایف کے لڑاکا طیارے مبینہ طور پر کچھ افغان اڈوں پر فضائی گشت کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز افغان حملوں کو پسپا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان نے سرحد پر فائرنگ کے بعد آپریشن غضب ا للحق شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان نے خیبر پختونخواہ کی سرحد کے ساتھ کئی مقامات پر فائرنگ کی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ افغان فورسز کے خلاف کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ فوج نے بتایا کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ایک پاکستانی نمائندے نے بتایا کہ طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور نو پر قبضہ کر لیا گیا۔

55 پاکستانی فوجی مارے گئے19 چوکیوں پر قبضہ کا دعویٰ

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سنسنی خیز بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جوابی حملے میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں اور سرحد پر 19 پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی پوسٹ کیا ہے کہ کچھ پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان نے ابھی تک طالبان کے اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

 اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی 

تازہ ترین معلومات کے مطابق سرحد پر طورخم گیٹ پر دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب جنگ ہے۔ جہاں اقوام متحدہ نے دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی ہے، وہیں سرحدی دیہات میں ہزاروں لوگ محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

 پاکستان افغانستان کشیدگی پر چین کواظہار تشویش 

 پاکستان اور افغانستان کےدرمیان جاری کشیدگی پر  چین نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہاکہ  چین  اپنے چینلز کےذریعہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی  کر رہا ہے۔ ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں سے گہری تشویش ہے۔