چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما سے متعلق سامنے آئے تنازعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس سندیپ مہتا کی جانب سے بھیجے گئے خطوط کا نوٹس لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ چونکہ معاملہ ایک موجودہ جج سے متعلق ہے، اس لیے اس کی جانچ اور مزید کارروائی طے شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور کالجیم کے دیگر ارکان پہلے ہی مختلف ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق معاملات پر کام کر رہے ہیں۔ اسی دوران راجستھان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے متعلق جسٹس سندیپ مہتا کے خطوط کو بھی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
جسٹس سندیپ مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا کو تین خطوط بھیجے ہیں، جن میں انہوں نے قائم مقام چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما کے طرز عمل سے متعلق کئی سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ جسٹس مہتا نے مبینہ طور پر ان کے رویے کو جانبدارانہ اور عدلیہ کے وقار کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جسٹس شرما کو راجستھان سے باہر منتقل کیا جائے اور راجستھان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے کسی دوسری ہائی کورٹ کے سینئر جج کی تقرری پر غور کیا جائے۔تاہم، چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس معاملے میں کسی بھی قسم کی جلد بازی یا عوامی بحث کی بنیاد پر فیصلہ کرنے سے گریز کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی جج کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعلقہ جج کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل اور منصفانہ موقع دینا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق، معاملے میں دونوں جانب سے پیش کیے جانے والے مواد کا جائزہ لیا جائے گا۔ جسٹس سندیپ مہتا کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور الزامات کے ساتھ ساتھ قائم مقام چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما کا جواب بھی غور میں لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی تبادلے یا کسی دوسری انتظامی کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ عدلیہ سے متعلق ایسے حساس معاملات میں میڈیا رپورٹس، عوامی دعووں یا سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ قائم شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار اور تمام متعلقہ حقائق کی جانچ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائے گی۔اس معاملے نے عدلیہ کے اندر احتساب، شفافیت اور ادارہ جاتی طریقہ کار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ تمام فریقوں کا موقف سننے اور متعلقہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ اور کالجیم اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔